بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر دولہا اور دلہن والوں کا ایک دوسرے سے تحائف لینا کیسا ہے ؟


سوال

شادی کےموقع پردلہن والےمہرکےعلاوہ دولہاکےگھروالوں سے دلہن کےکپڑےمیکپ اورہاروغیرہ کےلئےپیسےلیتےہیں،اگر غریب ہو تو 30000روپےاوراگردولہاوالےامیرہوں تو 60000 روپے کےقریب لیتےہیں، اسی طرح دولہاوالےبھی دلہن والوں سےدلہا کےکپڑوں کیلئےپیسےلیتےہیں تو کیا یہ لینا جائز ہے ؟

جواب

دلہن کے کپڑے اور میکپ کے لیے پیسے لینا اور اس سے کپڑے اور میکپ کے سامان خرید کر دلہن کو دینا جائز ہے،البتہ دلہا کے کپڑے وغیرہ کے لیے پیسے لینا جائز نہیں ہے ،اگر لڑکی والے خوشی سے دے دیں ٗ تو منع نہیں ہے،لیکن اس کو لازمی رسم بنانا صحیح نہیں ہے۔

مسند امام احمد میں ہے :

"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه‘‘.

(مسند الکوفیین، حدیث عم أبي حرة الرقاشي، رقم الحدیث: 20714،ج:5،ص:72، ط:مؤسس قرطبة القاهرة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101120

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں