بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

گیارہ سال کی عمر کے بچے کے لیے روزہ کا حکم


سوال

میرا بیٹا 11 سال کا ہے، کیا اس پر روزہ فرض ہے؟

جواب

لڑکے اور لڑکی پر بالغ ہونے کے بعد روزہ رکھنا فرض ہوتا ہے،  اگر بلوغت کی کوئی علامت نہ پائی جائے تو  چاند کے اعتبار سے پندرہ سال کی عمر ہونے پر انہیں بالغ تسلیم کیا جائے گا اور روزہ رکھنا فرض ہوگا۔ لیکن لڑکے کے بالغ ہونے کی کم از کم مدت بارہ سال ہے، اس لیے گیارہ سال کے لڑکے پر روزہ فرض نہیں ہے۔

تاہم بالغ ہونے سے پہلے بھی  اگر بچے میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو  اور روزہ سے اس کو کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ہو تو اس کو روزہ رکھنے کا حکم دیا جائے، اور دس سال عمر ہونے پر تحمل وبرداشت کے موافق روزہ رکھنے کی تاکید کرنی چاہیے، تاکہ اس کی عادت بن جائے اور بالغ ہونے کے بعد اس کے لیے روزہ رکھنے میں دشواری نہ ہو،  اور اگر نابالغ بچہ روزہ رکھ کر توڑ دے تو اس کی قضا رکھوانا لازم نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200275

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے