بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

10لاکھ روپے کی چینی ایک سال کی مہلت کے لیے 13لاکھ روپے میں فروخت کرنا


سوال

 زید ایک غریب بندہ ہے اس کو پیسے کی ضرورت ہے،عمرو نے کہا کہ پیسے میں دیتا ہوں اور اسکی صورت یہ تھی کہ عمرو نے بکر دکاندار سے دس لاکھ روپے کی نقد  چینی خریدی اور  زید پر ایک سال کےلیے تیرہ لاکھ روپے میں ادھارپر بیچ دی، چوں کہ زید کوپیسوں کی اشد ضرورت تھی تو اس نے وہی چینی دکاندار بکر پر بعوض دس لاکھ روپے واپس نقد کی صورت میں بیچ دی،اب وضاحت طلب امر یہ ہے کہ یہ طریقہ شرعی لحاظ سے  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں خرید وفروخت کی جو صورت سائل نے بیان کی ہے اس کو اصطلاح میں بیع عینہ کہتے ہیں ،جوکہ حرام ہے، اور سود خوری کا ہی ایک راستہ ہے، اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے عقد کو رسوائی اور ذلت کا سبب قرار دیا ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔

 جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے۔

"عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: إذا تبايعتهم العينة، و أخذتم أذناب البقر، و رضيتم بالزرع، و تركتم الجهاد، سلط الله عليكم الذلة، لا ينزعه حتي ترجعوا إلی دينكم."

(ابواب الإجارة،باب في النهي عن العينة،274/3،ط:المكتبة العصرية بيروت)

ترجمہ:رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا: کہ جب تک تم بیع عینہ کرتے رہوگے اور جانوروں کی دیکھ بھال میں لگے رہوگے اور زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ دوگے تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔

  لہذا اگر اس طرح کا عقد کرلیا ہے تو اسے فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے اور اللہ رب العزت سے اپنے اس عمل پر سچے دل سے فوری طور پر توبہ کرنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في فضل لا يناله بالقرض فيقول لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهما وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال - عليه الصلاة والسلام - «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم."

(كتاب البيوع،باب الصرف،273/5،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(قوله: أمر كفيله ببيع العينة) بكسر العين المهملة وهي السلف، يقال باعه بعينة: أي نسيئة مغرب.:

وفي المصباح وقيل لهذا البيع عينة؛ لأن مشتري السلعة إلى أجل يأخذ بدلها عينا أي نقدا حاضرا اهـ، أي قال الأصيل للكفيل اشتر من الناس نوعا من الأقمشة ثم بعه فما ربحه البائع منك وخسرته أنت فعلي فيأتي إلى تاجر فيطلب منه القرض ويطلب التاجر منه الربح ويخاف من الربا فيبيعه التاجر ثوبا يساوي عشرة مثلا بخمسة عشر نسيئة فيبيعه هو في السوق بعشرة فيحصل له العشرة ويجب عليه للبائع خمسة عشر إلى أجل أو يقرضه خمسة عشر درهما ثم يبيعه المقرض ثوبا يساوي عشرة بخمسة عشرة، فيأخذ الدراهم التي أقرضه على أنها ثمن الثوب فيبقى عليه الخمسة عشر قرضا درر.ومن صورها أن يعود الثوب إليه كما إذا اشتراه التاجر في الصورة الأولى من المشتري الثاني ودفع الثمن إليه ليدفعه إلى المشتري الأول، وإنما لم يشتره من المشتري الأول تحرزا عن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن."

(كتاب اللكفالة،مطلب بيع العينة،325/5،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100888

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں