بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ان شاءاللہ کس طرح لکھنا چاہیے؟


سوال

ان شاءاللہ کس طرح لکھنا چاہیے؟ اگر اس طرح سے لکھے ’’انشاءاللہ‘‘  تو کیا مفہوم و معنی تبدیل ہوجاتے ہیں؟

جواب

ان شاء اللہ لکھنے کادرست طریقہ تو ’’ان شاء اللہ‘‘  ہی ہے، (یعنی تینوں الفاظ کو جدا جدا لکھنا)، اور ’’ انشاء اللہ‘‘  لکھنا اگر چہ عربی اِملا کے قواعد کے مطابق درست نہیں ہے، مگر جو لوگ ’’انشاء اللہ‘‘  لکھتے ہیں ان کے پیشِ نظر بھی اللہ کا پیدا کیا ہوا معنی نہیں ہوتا، اور قاعدہ ہے: "الخطأ المشهور أولی من الصواب المهجور". (فتاویٰ شامی)  یعنی ایک لفظ غلط ہے مگر عوام میں رواج پاچکا ہے تو وہ اس سے بہتر ہے جو درست ہے مگر لوگ اسے چھوڑ چکے ہیں؛ اس لیے ’’انشاء اللہ‘‘  (یعنی ’’ان‘‘  اور ’’شاء‘‘  کو ملاکر انشاء) لکھنے کی بھی اجازت ہے۔ تاہم مکمل تحریر عربی میں ہو اور اس میں ’’ان شاء اللہ‘‘  کا لفظ آجائے تو اسے عربی قواعد کے مطابق لکھنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200747

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں