بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جمادى الاخرى 1441ھ- 17 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

یکم ذی الحجہ سے قربانی تک بال ناخن کاٹنا


سوال

یکم ذی الحجہ سے قربانی  بال ، ناخن ، شیو   بنانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس سے قربانی پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا؟

جواب

جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو  اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر قربانی کرنے تک  جسم کے بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹنا مستحب ہے،(بشرطیکہ بال اور ناخن مقررہ حد سے نہ بڑھے ہوئے ہوں)۔  لیکن اگر کوئی شخص ان ایام میں غیر ضروری  بال یا ناخن  کاٹتا ہے تو اس سے قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔  فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143909201667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے