بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

یوگا ورزش کا حکم


سوال

ہمارے ہاں پارک میں صبح فجر کے بعد یوگا کروایا جاتا ہے جس میں کافی لوگ شریک ہوتے ہیں، میں بھی دو ہفتے جاتا رہا ہوں، ان کا طریقہ کار یہ ہے : ان کا کہنا ہے کہ: جو ممبر فجر کی نماز با جماعت پڑھ کے آتا ہے وہ ہمارا ممبر ہے اور یہ ہی ہماری فیس ہے ،باقی جب پوسچر یعنی  پوزیشن بدلنا ہوتی ہے تو اس وقت بھی" سبحان اللہ "کہتے ہیں، جب سانس کی مشقیں ہوتی ہیں تو اس میں ہمیں دھیان اللہ کی طرف کرنے اور کوئی چھوٹی سورت یا درود پاک پڑھنے کا کہا جاتا ہے، مطلب انہوں نے ایک طرح سے یوگا کو اسلامک بنا دیا ہے تو کیا اس صورت میں یوگا کرنا ٹھیک ہے؟ آپ کے تفصیلی جواب کا انتظار رہے گا۔

جواب

صورت مسئولہ میں پہلی شرط تو صحیح ھے کہ جو شخص فجر کی نماز باجماعت پڑھےوہ ممبر ہے، تاہم پوزیشن کی تبدیلی کے دوران ذکر خلاف ادب ہے ؛کیوں کہ  اصل مقصود اس وقت ورزش اور فٹنس ہے، خداتعالی کاتقرب نہیں ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143509200060

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے