بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

یاد داشت کی کم زوری کا حل


سوال

کوئی چیز جلدی یاد بھی نہیں ہوتی ہے، اگر یاد بھی کر لیتا ہوں تو جلدی بھول بھی جاتا ہوں، اس کا حل بتائیے۔

جواب

حافظہ کی تیزی میں زیادہ کردار اوراد و وظائف کے بجائے گناہوں سے اجتناب اور یک سوئی کا ہوتا ہے، گناہوں سے حافظہ کم زور ہوتا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استاذ ’’وکیع‘‘ (رحمہ اللہ) سے اپنے حافظہ کے خراب (کم زور) ہونے کی شکایت کی تو انہوں (وکیع) نے مجھے گناہوں سے بچنے کی نصیحت کی، اس سے پتا چلتا ہے کہ گناہوں  کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی کی یادداشت(حافظہ) کم زور ہوجاتا ہے،  اس لیے ہر طرح کے صغیرہ و کبیرہ گناہ سے بچنے کا اہتمام نہایت ضروری ہے۔

دوسری چیز جس کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے وہ یک سوئی ہے، تعلیم کے دوران ایسی کوئی بھی مشغولیت جو توجہ تقسیم یا منتشر کردے وہ حفظ کے لیے نقصان دہ ہے، خصوصاً موبائل وغیرہ کا بے جا استعمال۔ 

ہمارے اکابر سےذہانت کی تقویت کے اسباب سے متعلق یہ بھی منقول ہے کہ نہار منہ کشمش اور بادام کااستعمال حافظہ کے لیے مفید ہے، مسواک کا پنج گانہ نماز سے پہلے وضو میں استعمال اور کثرتِ تلاوتِ قرآن مجید  و استغفار سے باطن روشن ہوتا ہے، جو قوتِ حافظہ کا باعث ہے۔ حصولِ علم میں مسلسل محنت ، بلاعذر ناغہ نہ کرنا قوتِ حافظہ کے لیے اچھے اعمال ہیں۔

 حافظہ اور ذہانت پر کم نیند اور بے خوابی زہر کا اثر کرتی ہے، اس سے ذہنی الجھن پیدا ہوتی ہے، لہٰذا نیند پوری کرنے کے اہتمام کے ساتھ دوپہر کے اوقات میں قیلولہ کی عادت ڈالیں، اس سے ذہن بیدار رہنے کے ساتھ حافظہ بھی اچھا ہوتاہے۔  نیز  اگر آپ طالبِ علم ہیں تو جو چیز یاد کرنی ہو اسے مغرب کے بعد یاد کرنے کا اہتمام کریں، رات سونے سے پہلے اسے مرتبہ دہرالیں اور صبح اٹھنے کے بعد وضو ونماز سے فراغت کے بعد سب سے پہلے رات یاد کیا ہوا دُہرا لیا کریں۔

حافظہ کی تقویت اور حفظِ قرآن میں سہولت کے لیے ایک عمل حدیث کی کتابوں میں ملتا ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا، اس عمل سے جہاں قرآنِ کریم کے حفظ میں سہولت ہوگی وہیں اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حافظے کی تقویت کا سبب بھی ہے۔ 

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں قرآن یاد کرتا ہوں لیکن وہ میرے سینے سے نکل جاتا ہے، محفوظ نہیں رہتا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو میں تجھے ایسی ترکیب بتاؤں جو تجھے بھی نفع دے اور جسے تو بتائے اسے بھی نفع دے اور جو کچھ تو سیکھے وہ محفوظ رہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دریافت فرمانے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ شبِ جمعہ میں آخری تہائی رات میں اٹھ سکے تو بہت اچھا ہے کہ یہ فرشتوں کے اترنے کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت دعاخاص طور پر قبول ہوتی ہے،اس وقت جاگنا مشکل ہو تو آدھی رات میں اور یہ بھی نہ ہوسکے تو رات کے شروع میں ہی کھڑا ہو اورچار رکعت نمازِ نفل پڑھ ،  پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ یسین، دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ دخان، تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ الم سجدہ اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ ملک پڑھ اور چوتھی رکعت کی التحیات سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالی کی حمدوثنا اورمجھ پر درود وسلام بھیج، تمام انبیاء علیہم السلام پربھی درود بھیج اوراس کے بعد تمام مؤمنین اور تمام مرحوم مسلمانوں کے لیے استغفار کر اور پھر درجِ ذیل دعا مانگ:

اَلَّلهُمَّ ارْحَمْنِيْ بِتَرْکِ الْمَعَاْصِيْ أَبَدًا مَا أَبْقَیْتَنِيْ، وَارْحَمْنِيْ أَنْ أَتَکَلَّفَ مَاْ لاَیَعْنِیْنِيْ، وَارْزُقْنِيْ حُسْنَ النَّظَرِ فِیْمَاْ یُرْضِیْکَ عَنِّيْ، الَّلهُمَّ بَدِیْعَ السَّمَاْوَاْتِ وَالْأَرْضِ ذَاْالْجَلَاْلِ وَالْاِکْرَاْمِ وَالْعِزَّةِ الَّتِيْ لَاْ تُرَاْمُ أَسْأَلُکَ یَاْ اَللهُ یَاْ رَحْمٰنُ بِجَلَاْلِکَ وَنُوْرِ وَجْهِکَ أَنْ تُلْزِمَ قَلْبِيْ حِفْظَ کِتَاْبِکَ کَمَاْ عَلَّمْتَنِيْ، وَارْزُقْنِيْ أَنْ أَقْرَأَهُ عَلَی النَّحْوِ الَّذِيْ یُرْضِیْکَ عَنِّيْ، الّٰلهُمَّ بَدِیْعَ السَّمَاْوَاْتِ وَالْاَرْضِ ذَاْالْجَلَاْلِ وَالْاِکْرَاْمِ وَالْعِزَّةِ الَّتِيْ لَاْ تُرَاْمُ أَسْأَلُکَ یَاْ اَللهُ یَاْ رَحْمٰنُ بِجَلَاْلِکَ وَنُوْرِ وَجْهِکَ أَنْ تُنَوِّرَ بِکِتَاْبِکَ بَصَرِيْ، وَأَنْ تُطْلِقَ بِهِ لِسَاْنِيْ، وَأَنْ تُفَرِّجَ بِهِ عَنْ قَلْبِيْ، وَأَنْ تَشْرَحَ بِهِ صَدْرِيْ، وَأَنْ تَغْسِلَ بِهِ بَدَنِيْ؛ فَإِنَّهُ لَاْ یُعِیْنُنِيْ عَلَی الْحَقِّ غَیْرُکَ، وَلَاْ یُؤْتِیْهِ إِلَّاْ اَنْتَ، وَلَاْ حَوْلَ وَلَاْ قُوَّةَ إِلَّاْ بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِیْمِ".

 پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے علی! اس عمل کو تین جمعہ یا پانچ جمعہ یا سات جمعہ کر،ان شاء اللہ دعا ضرور قبول ہوگی۔(سنن ترمذی ومستدرک حاکم) 

یہ عمل حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ نے اپنے رسالےفضائلِ قرآن کے آخر میں بھی میں بھی ذکر کیا ہے۔اگر حافظ نہ ہونے کی بنا پر اس عمل کا کرنا مشکل ہو تو ہر نماز کے بعد گیارہ بار ’’رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ وَیَسِّرْ لِيْ أَمْرِيْ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ یَفْقَهُوْا قَوْلِيْ‘‘پڑھیں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200297

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے