بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ہندو کی داڑھی شیو کرنے کی اجرت


سوال

اگر حجام کسی ہندو کی داڑھی شیو کرے (مونڈے) تو اس کے بدلہ میں جو اُجرت ملے وہ حلال ہوگی یا حرام؟

جواب

داڑھی مونڈنا (شیو کرنا ) بعینہٖ معصیت (گناہ) ہے، جیسے مسلمان کی داڑھی مونڈنا جائز نہیں، اسی طرح کسی کافر کی داڑھی مونڈنا اور اس کی اجرت لینا بھی ناجائز ہے، لہٰذا ہندو کی داڑھی مونڈنے (شیو کرنے ) پر جو اجرت ملے گی وہ حرام ہوگی۔فتاویٰ مؐحمودیہ میں ہے:

’’سوال : 8249:  زید کو غیر مسلموں کی داڑھی مونڈنی کیسی ہے ؟

جواب : وہ بھی جائز نہیں ہے ‘‘۔(فتاویٰ محمودیہ جلد 17 ،ص: 122-123 ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200149

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے