بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

ہبہ میں رجوع جائز ہے یا نہیں؟


سوال

کیا ہبہ میں رجوع جائز ہے یا نہیں؟ اور اس میں قبض اور تصرف کرنے کی صورت میں ہبہ پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ موہوبہ چیز (گفٹ شدہ) ہلاک ہوجائے یا موہوبہ چیز تبدیل ہوجائے، یا موہوبہ چیز میں ایسی زیادتی جو اس کے ساتھ متصل ہو، یا واہب (گفٹ کرنے والا) عوض لینے کی شرط پر ہبہ (گفٹ) دے اور عوض بھی لے لے، یا واہب فوت ہوجائے یا موہوب لہ (جسے گفٹ کیا جائے) کی ملکیت سے موہوبہ چیز نکل جائے، یا میاں بیوی ایک دوسرے کو ہبہ کریں، یا ذی رحم محرم کو ہبہ کیا جائے تو  ان صورتوں میں ہبہ سے رجوع نہیں ہوسکتا، اور ان عوارض کے علاوہ عام صورت میں قبضہ دینے سے پہلے موہوب لہ کی رضا مندی کے بغیر بھی ہبہ سے رجوع درست ہے، اگر چہ ایسا کرنا کراہت سے خالی نہیں، اور قبضہ دینے کے بعد موہوب لہ کی رضا مندی یا قاضی کے فیصلہ کے ساتھ ہبہ سے رجوع کرنا درست ہوتا ہے، تاہم قبضہ دینے کے بعد رجوع مکروہِ تحریمی ہے۔

شرح المجلۃ للاتاسی میں ہے:

"للواهب أن يراجع عن الهبة قبل القبض بدون رضا الموهوب له ... وهل يكره ذلك كما يكره الرجوع بعد القبض؟ الظاهر أنها لا تخلو عن الكراهة، لأن الرجوع ليس بأقل من الخلف بالوعد". (الفصل الأول في حق الرجوع عن الهبة ، ج: 3، ص: 393، ط: رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما شرائط الرجوع بعد ثبوت الحق حتى لايصح بدون القضاء والرضا؛ لأن الرجوع فسخ العقد بعد تمامه وفسخ العقد بعد تمامه لا يصح بدون القضاء والرضا كالرد بالعيب في البيع بعد القبض". (كتاب الهبة، فصل في حكم الهبة، ج: 6، ص: 128، ط: سعيد)

شرح المجلة میں ہے:

"وثبوت حق الرجوع للواهب قضاء لاينافي أن ذلك مكروه تحريمًا".(الباب الثالث في أحكام الهبة، ج: 3، ص: 493، ط: رشيدية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع (منها) هلاك الموهوب ... (ومنها) خروج الموهوب عن ملك الموهوب له ... (ومنها) موت الواهب، . . (ومنها) الزيادة في الموهوب زيادة متصلة . . . (ومنها) أن يتغير الموهوب .. (ومنها الزوجية) (ومنها القرابة المحرمية)". (الباب الخامس في الرجوع في الهبة وفيما يمنع عن الرجوع ما لا يمنع، ج: 4، ص: 385، ط: ماجدية)  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105200479

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں