بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ہاتھوں سے معذور شخص کا بغیر وضو نماز ادا کرنا


سوال

اگر کسی شخص کے دونوں ہاتھ  بالکل بھی کام نہیں کر سکتے اور پورا بدن بالکل صحیح سالم ہے، کیا وہ شخص بغیر وضو اور بغیر تیمم کے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  مذکورہ شخص کے ہاتھ  بالکل بھی کام نہیں کرتے اور نہ وہ وضو کرسکتا ہے اور نہ ہی تیمم تو اگر  ایسا کوئی شخص موجود ہے جس سے یہ وضو کرانے کے سلسلے میں تعاون لے سکتا ہو مثلاً خادم، بیٹا، اور بیوی وغیرہ  تو  ان سے وضو کروالے، ورنہ اگر کوئی اور شخص وضو کرواسکے تو اس سے کروالے، اور اگر کوئی وضو کرانے والا نہیں ہے، یا ایسے لوگ ہیں جن سے یہ مدد نہیں لے سکتا  تو  اس صورت میں یہ چہرے کو  زمین یا دیوار سے تیمم کی نیت سے مل لے اور اس کے بعد نماز ادا کرے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 233):
"حاصل ما فيه أنه إن وجد خادمًا: أي من تلزمه طاعته كعبده وولده وأجيره لايتيمم اتفاقًا، وإن وجد غيره ممن لو استعان به أعانه ولو زوجته فظاهر المذهب أنه لايتيمم أيضًا بلا خلاف. وقيل: على قول الإمام يتيمم".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 80):
"و أما الطهارة، ففي الظهيرية وغيرها من قطعت يداه ورجلاه و بوجهه جراحة يصلي بلا وضوء ولا تيمم ولايعيد، قال بعض الأفاضل: في الأصح.
(قوله: وبوجهه جراحة) قيد به؛ لأنه لو كان سليمًا مسحه على الجدار بقصد التيمم ط، وسكت عن الرأس؛ لأن أكثر الأعضاء جريح، والوظيفة حينئذ التيمم ولكنه سقط لفقد آلته وهما اليدان. اهـ. ح". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200615

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے