بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 صفر 1442ھ- 22 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

گھڑی کس ہاتھ میں پہننا چاہیے؟


سوال

گھڑی کس ہاتھ میں پہننا چاہیے؟

جواب

اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق جس ہاتھ میں چاہے پہن سکتے ہیں، اس میں کوئی پابندی نہیں ہے، اہلِ علم میں بھی دونوں طرح کے ذوق پائے جاتے ہیں۔ البتہ خیر کے کام میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دینا بہتر ہوتا ہے؛ اس لیے گھڑی پہننے میں خیر کے کاموں اور اوقات کی حفاظت کی نیت کی جائے اور دائیں ہاتھ میں پہنی جائے۔ البتہ اگر کوئی کسی صحیح غرض کی وجہ سے بائیں ہاتھ میں پہنے، (مثلاً: کسی کا لکھنے کا زیادہ کام ہو اور بائیں ہاتھ میں گھڑی پہننے میں سہولت ہو) تو اس کے لیے بائیں ہاتھ میں پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط و اللہ تعالی اعلم


فتوی نمبر : 143909201744

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں