بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

گھوڑے، ہرن، زیبرا اور اسٹریلین گائے کی قربانی کا حکم


سوال

کیا گھوڑا، ہرن ،زیبرا، اورآسٹریلین گائے کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کے جانور شرعی طور پر متعین ہیں، جن میں   اونٹ ،گائے، دنبہ ، بھیڑ ، بکرا،مینڈھا(مذکر ومؤنث )شامل ہیں،بھینس گائے کے حکم میں ہے، اسی طرح آسٹریلین گائے بھی چوں کہ گائے ہے اس لیے اس کی قربانی بھی درست ہے۔ ان کے علاوہ کسی جانورکی قربانی درست نہیں۔

اس حوالے سے اصول یہ ہے کہ قربانی پالتو مویشی کی ہوتی ہے، لہٰذا جو جانور فطری طور پر پالتو نہ ہو (خواہ اسے پال کر عادی کردیا جائے) اس کی قربانی جائز نہیں ہے، جیسے ہرن، زیبرا اور نیل گائے وغیرہ کہ باوجود حلال ہونے کے ان کی قربانی درست نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ اصلاً وحشی جانور ہیں۔ 

 رہی بات گھوڑے کی قربانی کی تو گھوڑے کا گوشت کھانا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک قربانی کے علاوہ بھی مکروہِ تحریمی ہے، اور حنیفہ کے ہاں فتویٰ اسی پر ہے، نیز نبی کریم ﷺ سے  گھوڑے کی قربانی کا قولاً یا فعلاً کوئی ثبوت نہیں ہے؛ لہٰذا  گھوڑے  کی قربانی جائز نہیں ہے۔

"يكره لحم الخيل في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى، خلافاً لصاحبيه، واختلف المشايخ في تفسير الكراهة، والصحيح أنه أراد بها التحريم، ولبنه كلحمه، كذا في فتاوى قاضي خان. وقال الشيخ الإمام السرخسي: ما قاله أبوحنيفة رحمه الله تعالى أحوط، وما قالا أوسع، كذا في السراجية". (الفتاوى الهندية (5/ 290)

"وأما لحم الخيل فقد قال أبو حنيفة رضي الله عنه: يكره، وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله: لايكره، وبه أخذ الشافعي رحمه الله". (بدائع الصنائع (5/ 38) (کفایت المفتی 8/191) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201282

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں