بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

گھر چلی جا کہنے کاحکم


سوال

میری اہلیہ سے ناراضگی ہو گئی تھی، میں نے اس کو بولا: ''اپنے گھر چلی جا اور پیچھے ہو جا، چل پیچھے ہو جا، پیچھے ہٹ''، اب شیطان طلاق کے حوالہ سے بہت وساوس ڈال رہا ہے۔ راہ نمائی فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟

جواب

اگر آپ نے یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے طلاق کی نیت کی تھی تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے؛ کیوں کہ یہ الفاظ طلاق کے لیے کنائی ہیں اور ساتھ رہنے کے لیے از سرِ نو دو گواہوں کی موجودگی میں  نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہو گا۔

اور اگر آپ نے ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں کی تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، پریشانی کی کوئی بات نہیں، اور وساوس آنے کا حل یہ ہے کہ اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی جائے خود بخود  ختم ہو جائیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200637

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں