بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

گھر خریدنے کے لیے بینک سے قرض لینا


سوال

کیا اپنا گھر خریدنے کے لیے بینک سے لون (قرض) لے سکتے ہیں؟ کیوں کہ ہم کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں اور کچھ بچتا نہیں کہ ہم ذاتی گھر کے لیے پیسے جمع کرسکیں۔

جواب

بینک  مختلف کاموں کے لیے جو قرضہ دیتے ہیں وہ سودی قرضہ ہوتا ہے،   جس طرح سودی قرضہ دینا حرام ہے اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، اور حدیث شریف میں سود لینے اور دینے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے، اس لیے آپ اپنا ذاتی گھر خریدنے کے لیے سودی قرضہ لینے کے بجائے کوئی دوسرا  جائز متبادل راستہ (مثلاً غیر سودی قرضہ ) اختیار کریں، اور جب تک غیر سودی قرضہ نہ مل سکے اس وقت تک کرائے کے مکان میں ہی گزارا  کرنے کی کوشش کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے