بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 رجب 1442ھ 27 فروری 2021 ء

دارالافتاء

 

گناہ گار مسلمان کو عذابِ قبر کب تک ہوتا ہے؟


سوال

اگر گناہ گار مسلمان مرجائے تو کیا قیامت تک اس پر عذاب ہوتا رہے گا؟

جواب

واضح رہے قرآن اور حدیث میں  قبر کا عذاب دو طرح کا ذکر ہے:

1- مسلسل تاقیامت۔ 2- غیرمسلسل بقدرِ گناہ۔

پہلی قسم: عذابِ قبرمسلسل تا قیامت:

قرآن اور احادیث میں ذکر ہے کہ جو شخص اللہ تعالی کی ذات کا منکر ہو یا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو، وہ صبح اور شام مسلسل  عذاب میں مبتلا ہوگا۔

٭ جیسے کہ سورہ غافر میں ہے: {اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا  وَّ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ} (سورہ غافر:45,46)

ترجمہ: "وہ لوگ (برزخ میں) صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں (یعنی جلائے جاتے ہیں) اور جس روز قیامت قائم ہوگی (تو حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو (مع فرعون کے) نہایت سخت عذاب میں داخل کرو۔"

٭ سورہ نوح میں ہے: {مِمَّا خَطِیْئٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا} ( سورہ نوح:25) ترجمہ: "اپنے گناہوں کے سبب وہ (یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے لوگ) غرق کیے گئے، پھر آگ میں داخل کیے گئے۔"

٭ حدیث شریف میں ہے کہ شبِ معراج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ ایسے لوگوں کے پاس آئے جن کے سروں کو بڑے بڑے پتھروں سے کچلا جا رہا تھا، جب بھی کچلا جاتا سر دوبارہ صحیح ہوجاتا اور اس میں کوئی وقفہ نہیں ڈالا جاتا تھا۔

٭ بخاری شریف میں ایک شخص سے متعلق قصہ مذکور ہے  کہ دو دھاری دار چادریں پہن کر اکڑتا ہوا چل رہا تھا تو اللہ تعالی نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک اس میں دھنستا رہے گا۔

دوسری قسم: عذاب ایک مدت تک ہونے کے بعد ختم ہو جائے گا۔

یہ ان لوگوں کو عذاب ہو گا جن کے گناہ کم ہوں گے، انہیں ان کے جرم کے حساب سے عذاب ہونے کے بعد کم ہوجائے گا جس طرح کہ آگ میں کچھ مدت تک عذاب ہونے کے بعد ختم ہو جائے گا۔ اور بعض اوقات ان کے اقرباء وغیرہ کی جانب سے دعا اور صدقہ کرنے اور استغفار اور حج کی بنا پر بھی عذاب ختم ہو جاتا ہے۔ 

کتاب الروح لابن قیم میں ہے؛

"نوعان: نوع دائم سوى ما ورد في بعض الأحاديث أنه يخفف عنهم ما بين النفختين فإذا قاموا من قبورهم قالوا: {يا ويلنا من بعثنا من مرقدنا} ويدل على دوامه قوله تعالى: {النار يعرضون عليها غدوا وعشيا} ويدل عليه أيضًا ما تقدم في حديث سمرة الذي رواه البخاري في رؤيا النبي وفيه فهو يفعل به ذلك إلى يوم القيامة.

وفي حديث ابن عباس في قصة الجريدتين: لعله يخفف عنهما ما لم تيبسا فجعل التخفيف مقيدًا برطوبتهما فقط.

و في حديث الربيع بن أنس عن أبي العالية عن أبي هريرة: ثم أتى على قوم ترضخ رؤوسهم بالصخر كلما رضخت عادت لايفتر عنهم من ذلك شيء و قد تقدم، و في الصحيح في قصة الذي لبس بردين وجعل يمشي يتبختر فخسف الله به الأرض فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة.

وفي حديث البراء بن عازب في قصة الكافر: ثم يفتح له باب إلى النار فينظر إلى مقعده فيها حتى تقوم الساعة. رواه الإمام أحمد. وفي بعض طرقه: ثم يخرق له خرقًا إلى النار فيأتيه من غمها و دخانها إلى القيامة. 

 النوع الثاني: إلى مدة ثم ينقطع وهو عذاب بعض العصاة الذين خفت جرائمهم فيعذب بحسب جرمه ثم يخفف عنه كما يعذب في النار مدة ثم يزول عنه العذاب.

 وقد ينقطع عنه العذاب بدعاء أو صدقة أو استغفار أو ثواب حج أو قراءة تصل إليه من بعض أقاربه أو غيرهم."

(المسألة الرابعة عشر وهي قوله: عذاب القبر دائم أو منقطع، ص:89، ط:دارالكتب العلمية.بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144112201182

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں