بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

گم شدہ چیز کی واپسی کا وظیفہ


سوال

میں  نے  اپنا سوال بذریعہ ای میل روانہ کیا تھا،  بد قسمتی سے نہیں پڑھ سکا، دوبارہ عرض ہے ایک ٹی پروگرام میں قبلہ مفتی نعیم صاحب نے گم شدہ اشیاء کے متعلق سورۃ الاحزاب کی آیت بیان کی تھی جو کہ میں مکمل طور نہیں سن سکا، اگر ممکن ہو تو مجھے بتا دیں عین نوازش ہو گی؟

جواب

مفتی محمد نعیم صاحب نے  گم شدہ چیز کی تلاش سے متعلق جو آیات بیان تھی اگراس کی بابت انہی سے استفسار کرلیا جائے تو یہ زیادہ مناسب ہے، ان کا ادارہ جامعہ بنوریہ العالمیہ کے نام سے موسوم ہے۔البتہ ہر پریشانی اور مصیبت کے لیے سب سے مجرب اور بہترین وظیفہ صدقِ دل سے دعا کرنا ہے، نیز  گم شدہ  چیز کی واپسی کے لیے درج ذیل وظائف پڑھنا مجرب ہے:

1۔ '' إِنَّاللِّٰهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ'' کثرت سے پڑھنا .
2۔ '' اَللّٰهُمَّ رَادَّ ِّالضَّالةِ وَهَادِيَ الضَّالةِ أَنْتَ تَهْدِيْ مِنَ الضَّلَالَةِ ، اُرْدُدْ عَلَيَّ ضَالَّتِيْ بِقُدْرَتِکَ وَ سُلْطَانِکَ فَإِنّهَا مِنْ عَطَائِکَ وَفَضْلِکَ''۔ ( حصن حصین )اس دعا کو کثرت سے پڑھنا.

3۔ بعض اکابر نے لکھا ہے کہ دو رکعت تنہائی میں صلاۃ الحاجت کی نیت سے پڑھ کر سات مرتبہ درود شریف  پڑھیں پھر سورۃ لقمان کی آیت ﴿ يابُنَيَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ﴾  119 مرتبہ پڑھیں پھر  یا حفیظ 119 مرتبہ اُس کے بعد  درود شریف سات مرتبہ پڑھ کر دعا کریں، ان شاء اللہ آپ کی گم شدہ چیز  جلد مل جائے گی۔

4۔  ﴿ رَبَّنَا اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ﴾ ( سورۃ آل عمران،آیت :9)     یہ دعا پڑھتے رہیں ان شاء اللہ جلد وہ چیز مل جائے گی ۔

5۔ سورۃ والضحی (پارہ 30)  کو سات مرتبہ پڑھنے سے وہ چیز مل جائے ۔

واضح رہے کہ ٹی وی پر آنے والی تصاویر بھی ناجائز ہیں، اس لیے ٹی وی دیکھنے سے اجتناب کیا جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201339

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں