بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

گفتگو میں مبالغہ کرنا


سوال

بات کرنے میں اکثر مبالغہ ہوتا ہے اس کا کیا حکم ہے

جواب

گفتگو میں مبالغہ کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، بعض صورتوں میں جائز اور بعض میں ناجائز ہوگا۔ اس کو جاننے کا ضابطہ یہ ہے کہ "جن جگہوں میں مبالغے سے صریح جھوٹ لازم نہ آئے، کسی کی تنقیص بھی نہ ہو، اپنی بڑائی کا اظہار بھی نہ ہو اور شریعت میں بیان کردہ مقداروں (مثلاً ثواب کی مقدار، گناہ کی سزا کی مقدار وغیرہ) میں تبدیلی بھی لازم نہ آتی ہو تو کسی بات کی اہمیت بتلانے اور اس میں وزن پیدا کرنے کی خاطر مبالغہ کرنا جائز ہوگا۔ 

 

بصورتِ دیگر جائز نہیں ہوگا، اس پر استغفار و توبہ کرنا ضروری ہے۔  اور اگر اس مبالغہ آرائی سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو یا اس کا حق فوت ہوا ہو تو اس شخص سے بھی معافی مانگنا ضروری ہوگا۔

الأذكار للنوويمیں ہے :

" قال الغزالي : ومن الكذب المحرَّم الذي يوجب الفسق ، ما جرت به العادة في المبالغة ، كقوله : قلت لك مائة مرة ، وطلبتك مائة مرة ونحوه، فإنه لا يراد به تفهيم المرات بل تفهيم المبالغة ، فإن لم يكن طلبه إلا مرة واحدة كان كاذباً ، وإن طلبه مرات لايعتاد مثلها في الكثرة لم يأثم وإن لم يبلغ مائة مرة ، وبينهما درجات يتعرض المبالغ للكذب فيها . قلت : ودليل جواز المبالغة وأنه لا يعد كاذباً ، ما رويناه في الصحيحين أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( أما أبو جهم فلا يضع العصا عن عاتقه ، وأما معاوية فلا مال له ) ومعلوم أنه كان له ثوب يلبسه ، وأنه كان يضع العصا في وقت النوم وغيره وبالله التوفيق " . (باب التعريض و التورية، ص: ٣٣٩، ط: شركة مكتبة و مطبعة مصطفي الباني الحلبي و اولاده بمصر) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200185

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے