بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سورج یا چاند گرہن کے حاملہ عورت پر اثرات کی حقیقت


سوال

کیا حاملہ عورتوں پر سورج اور چاند گرہن کے کوئی اچھے یا برے اثرات ہوتے ہیں؟ کیا گرہن کے وقت حاملہ عورت کا باہر نکلنا منع ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت مسلمانوں کو اصل حکم یہ ہے کہ اللہ کی طرف متوجہ ہوں، اور یہ حکم مردوں اور عورتوں (جن میں حاملہ عورتیں بھی ہیں) سب کے لیے ہے۔ باقی حاملہ عورت پر گرہن کے اچھے یا برے  اثرات ہونے کا یا اس وقت میں باہر نکلنے کی ممانعت کا شرعی طور پر کوئی ثبوت نہیں؛ لہذا ایسا عقیدہ رکھنا ناجائز ہے۔ 

اغلاط العوام میں ہے :

’’مشہور ہے کہ چاند اور سورج کے گہنے کے وقت کھانا پینا منع ہے، سو اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔ البتہ وہ وقت توجہ الی اللہ کا ہے، اس وجہ سے کھانے پینے کا شغل ترک کردینا اور بات ہے۔ رہا یہ کہ دنیا کے تمام کاروبار، بلکہ گناہ تک تو کرتا رہے اور صرف کھانا پینا چھوڑ دے، یہ شریعت کو بدل ڈالنا اور بدعت ہے‘‘۔ (ص ۱۹۱، زمزم پبلشرز) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200243

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں