بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

گروی مکان میں تصرف


سوال

 کیا گروی مکان لینا یا دینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ گروی رکھوانے والا (یعنی جو گروی رکھی ہوئی چیز کا اصل مالک ہے) ’’راہن‘‘  کہلاتا ہے اور گروی رکھنے والا ’’مرتہن‘‘ کہلاتا ہے۔

قرض لیتے وقت بطورِ وثیقہ رہن (گروی) رکھنے کی اجازت ہے۔ لیکن گروی رکھے ہوئے مکان میں مرتہن کو کسی بھی قسم کا تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہےاور راہن کے لیے گروی رکھے ہوئے مکان کا لین دین کرنا، مرتہن کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (5 / 462):
"وتصرف الراهن قبل سقوط الدين في المرهون إما تصرف يلحقه الفسخ كالبيع والكتابة والإجارة والهبة والصدقة والإقرار ونحوها، أو تصرف لايحتمل الفسخ كالعتق والتدبير والاستيلاد، أما الذي يلحقه الفسخ لاينفذ بغير رضا المرتهن، ولايبطل حقه في الحبس، وإذا قضى الدين وبطل حقه في الحبس نفذت التصرفات كلها.

ولو أجاز المرتهن تصرف الراهن نفذ وخرج من أن يكون رهنا والدين على حاله، وفي البيع يكون الثمن رهنا مكان المبيع، وكذا إذا كان تصرفه في الابتداء بإذن المرتهن". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200386

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے