بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1441ھ- 07 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

گرمی یا سردی کی وجہ سے مسجد کی چھت پر نماز کی جماعت کرانا


سوال

گرمی یا سردی کی وجہ سے مسجد کی  غیر مسقف چھت پر جماعت کرانا کیسا ہے؟

جواب

بلا عذرمسجد کی چھت پرنمازپڑھنا مکروہ ہے، اسی طرح نچلی منزل میں جگہ ہونے کے باوجود اسے چھوڑ کر مکمل جماعت چھت پر کرانا بھی مکروہ ہے،مسجد کی نچلی منزل چھوڑ کر چھت پر جماعت کرانا مسجد کی اصل وضع اور امت کے متوارث تعامل کے خلاف ہے اور نچلی منزل کا خالی رہنا مسجد کے احترام کے بھی خلاف ہے،  اس لیے بلا عذر   اصل مسجد چھوڑ کر چھت پر جماعت کرانا  خلافِ سنت اور مکروہ  ہے۔البتہ اگر عذر ہوا  یعنی اگر  امام  نیچے کے حصے میں مسجد کے اندرونی ہال میں ہو  اور  جماعت اس کے ساتھ ہو،لیکن  جماعت کی کثرت اور جگہ کی تنگی کی بنا پر  کچھ آدمی اوپر مسجد کی چھت پراقتدا کرلیں تو یہ بلا کراہت جائز ہوگا۔

واضح رہے کہ گرمی یا سردی عذر میں داخل نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 322):

"الصعود على سطح كل مسجد مكروه، ولهذا إذا اشتد الحر يكره أن يصلوا بالجماعة فوقه، إلا إذا ضاق المسجد فحينئذ لا يكره الصعود على سطحه للضرورة، كذا في الغرائب".

نصاب الاحتساب میں ہے:

’’و كذا الصعود علي سطح كل مسجد مكروه، و لهذا إذا اشتد الحر يكره أن يصلوا بجماعة فوق السطح، إلا إذا ضاق المسجد فحينئذٍ لايكره الصعود على سطحه للضرورة، و أما شدة الحر فلأنها لاتوجب الضرورة ط، و إنما يحصل به زيادة المشقة و بها يزداد الأجر. كله من المحيط و غيره‘‘. ( الباب الخامس عشر في ما يحتسب في المسجد، ص: ٣٢، قلمي)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

’’گرمی کی شدت کی وجہ سے دھابا (یعنی مسجد کی چھت) پر جماعت کرنا مکروہ ہے، اگر نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے نیچے جگہ نہ ہو ، تو زائد نمازی اوپر جاسکتے ہیں، اس صورت میں کراہت نہ ہوگی، کیوں کہ مجبوری ہے‘‘۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے