بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1441ھ- 11 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

گرمی اور پسینہ کی وجہ سے معتکف کا جسم پر پانی بہانا


سوال

معتکف اگر گر می اور پسینے کی وجہ سے روزانہ جسم پر جلدی سے پا نی بہا کر کپڑ ے بدل لے تو کیا اس کی اجازت ہے؟

جواب

گرمی کی وجہ  سے مسجد سے باہر نکل کر معتکف کے لیے غسل کرنا جائز نہیں ہے, اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اگر گرمی کی وجہ سے  غسل کی شدید ضرورت ہوتو  مسجد میں بڑا برتن رکھ کر اس میں بیٹھ کر غسل کرلے اس طور پر کہ  استعمال کیا ہوا پانی  مسجد میں نہ گرے، یا تولیہ بھگو کر نچوڑ کر  بدن پر مل لے، اس سے بھی ٹھنڈک حاصل ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں  مسجد انتظامیہ پورٹ ایبل واش روم کا انتظام بھی کرسکتی ہے کہ اسے مسجد کے اندر رکھ دیا جائے اور پانی مسجد سے باہر گرے، لیکن شدید ضرورت کے بغیر اس کے استعمال کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔

حاصل یہ ہے کہ  ٹھنڈک کے لیے غسل کی نیت سے مسجد سے باہر جانا معتکف کے لیے جائز نہیں ہے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جب پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب سے فارغ ہوکر غسل خانے میں دو چار لوٹے بدن پر ڈال لے، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آجائے، الغرض غسل کی نیت سے مسجد سے باہر جانا جائز نہیں، طبعی ضرورت کے لیے جائیں تو بدن پر پانی ڈال سکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200672

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں