بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

گائے ، بھینس کی زکات


سوال

بارہ سے زیادہ دودھ دینے والی گائے ہیں، ان پر سال گزر گیا ہے، اس پر زکات کا کیا حساب ہے؟

جواب

گائے ، بھینس میں زکاۃ واجب ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

1۔ وہ سال کے اکثر حصہ میں جنگل بیابان میں خود چرکر گزارا کرتے ہوں، اگر آدھے سال یا اس سے کم چرکر گزارا کرتے ہوں تو زکاۃ واجب نہیں ہے، اسی طرح جن جانوروں کو گھر میں رکھ کر چارا کھلایا جاتا ہے، جیساکہ ڈیری والے لوگ بھینس وغیرہ باڑے میں پالتے ہیں، ان میں بھی زکاۃ واجب نہیں ہے۔

2۔۔ ان جانوروں کو چرانے کا مقصد ان سے دودھ حاصل کرنا یا ان کی نسل چلانا ہو؛ لہٰذا جن جانوروں کا گوشت کھانے، کھلانے کے لیے یا سواری کے لیے یا کھیت جوتنے وغیرہ کے لیے اگر پالا جائے تو ان میں زکاۃ واجب نہیں۔

3۔۔  جانوروں کا اتنا صحت مند ہونا شرط ہے کہ بڑھوتری ممکن ہو، اگر ایسے کمزور اور مریل جانور ہوں کہ ان میں اضافے کا امکان نہ ہو تو ان میں زکاۃ واجب نہیں۔

4۔۔  وہ جانور سب کے سب بچے نہ ہوں؛ بلکہ ان میں کوئی نہ کوئی بڑا جانور بھی ہو (اگر سب بچے ہی بچے ہوں تو زکاۃ فرض نہیں)

مذکورہ شرائط پائے جانے کے بعد نصاب کا پورا ہونا ضروری ہے، یعنی وہ جانور نصاب کے عدد کو پہنچ جائیں اور ان پر سال گزرجائے، اور گائے بھینس کا نصاب یہ ہے کہ وہ 30 کے عدد کو پہنچ جائیں ،  جب تک 30 گائے نہ ہوں تو 30 سے کم پر زکاۃ نہیں ہے۔

لہذا  صورتِ مسئولہ میں بارہ گائے پر گائے کے نصاب کی زکاۃ لازم نہیں ہے، ہاں اگر گائے  تجارت یعنی خریدوفروخت کی نیت سے خریدی ہو تو  یہ مالِ تجارت کے حکم میں ہوگا اور مجموعی قیمت سے ڈھائی فیصد کے حساب سے زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ اور اگر دودھ بیچنے کے لیے گائیں پالی ہیں تو دودھ کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اگر جمع ہو اور وہ نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے یا دیگر قابلِ زکاۃ اموال کے ساتھ ملاکر نصابِ زکاۃ کی مقدار کو پہنچ جائے تو زکاۃ واجب ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1/ 177)
'' ليس في أقل من ثلاثين من البقر صدقة فإذا كانت ثلاثين سائمةً ففيها تبيع أو تبيعة''۔
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200056

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے