بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیکڑا کھانے کا حکم


سوال

کیکڑا کھانا کیسا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟ کیوں کہ ہم نے سنا ہے کہ سمندر کی ہر چیز حلال ہے اور اس کا ثبوت قرآنِ کریم میں بھی ہے، لہذا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں!

جواب

احناف کے یہاں سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کھانا حلال ہے۔ کیکڑا چوں کہ مچھلی کی کسی قسم میں شامل نہیں، بلکہ    کیکڑے کا شمار ہ دریائی کیڑوں میں ہوتا ہے،اس لیے  کیکڑا کھانا مکروہِ تحریمی ہے، قرآنِ حکیم میں جہاں اللہ تعالیٰ نے سمندری مخلوق کا ذکر فرمایا ہے وہ آیت یہ ہے: 

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ[المائدۃ، 96]

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سمندر کے شکار کو کھانے کی اجازت دی ہے، لیکن احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اس آیت میں شکار سے مراد صرف مچھلی ہے، لہذا  کیکڑے کے حلال ہونے کے لیے اس آیت کو پیش کرنا  درست نہیں۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 35):
{ويحرم عليهم الخبائث} [الأعراف: 157] والضفدع والسرطان والحية ونحوها من الخبائث".
فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144001200901

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں