بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 صفر 1442ھ- 22 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا گاڑی میں قبلہ کی تعیین کے بغیر نوافل ادا کرسکتے ہیں؟


سوال

گاڑی میں بغیر تعیینِ قبلہ نوافل پڑھنا صحیح  ہے؟

جواب

دورانِ سفر  (شہر سے باہر) جس رخ پر سواری جارہی ہو اس رخ پر نفل نماز پڑھنا بلا عذر بھی مطلقاً جائز ہے، مگر اس سے وہ سواری مراد ہے جس میں چلتے ہوئے قبلہ رخ نماز پڑھنے کی رعایت نہ رکھی جاسکتی ہو، جیسے اونٹ، گھوڑا، موٹر سائیکل، کار ،  بس وغیرہ؛ لیکن اگر سواری کشادہ ہو جیسے ریل، ہوائی جہاز  وغیرہ، تو اس میں نماز نفل کے لیے بھی قبلہ رخ ہونا ضروری ہوگا؛ اس لیے کہ موجودہ دور کی بڑی سواریوں میں قبلہ رو ہونا ممکن ہے، اس وجہ سے ان میں استقبالِ قبلہ ضروری ہے، جیسے کشتی میں استقبال قبلہ ضروری ہے۔

الدرالمختار میں ہے:

"و يتنفل المقيم راكباً خارج المصر ... مومئاً ... الي أي جهة توجهت دابته". (٢/ ٣٨)

حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاحمیں ہے:

"(و يتنفل) أي جاز له التنفل بل ندب له (راكباً خارج المصر) ... ( مومياً إلى أي جهة) و يفتتح الصلاة حيث ( توجهت به دابته)"۔  (ص: ٤٠٥)

"وأما في النفل فتجوز علی المحمل والعجلة مطلقاً"۔ (تنویر) "أي سواء کانت واقفةً أو سائرةً علی القبلة أولا، قادر علی النزول أولا، طرف العجلة علی الدابة أولا"۔ (شامي ۲؍۴۲۸ بیروت، شامي ۲؍۴۹۱ زکریا، الفتاویٰ الهندیة ۱؍۶۳)

"ومن أراد أن یصلي في سفینة تطوعاً أو فریضةً فعلیه أن یستقبل القبلة، ولا یجوز له أن یصليَ حیث ماکان وجهه" ۔ (الفتاویٰ الهندیة ۱؍۶۴، البحر الرائق / باب صلاة المریض ۲؍۲۰۷ رشیدیة، ۲؍۱۱۷کوئٹہ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201536

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں