بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو القعدة 1441ھ- 14 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا کلما کی قسم کھانے پر نکاحِ فضولی کے بعد تجدیدِ نکاح سے طلاق واقع ہو گی؟


سوال

’’کلما قسم‘‘  کی صورت  میں نکاحِ فضولی  کے بعد اگر کوئی تجدیدِ نکاح کرے تو کیا  ’’کلما‘‘  کی وجہ سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ لفظِ ’’کلما‘‘  تکرار کا متقاضی ہے،  یعنی اگر کوئی شخص کسی معاملہ کی قسم میں ’’کلما‘‘  کے الفاظ استعمال کرتاہےتو اس لفظ کا تقاضا یہ ہے کہ جب کبھی بھی شرط پائی جائے  تو مشروط بھی پایا جائے۔

اب اگر کسی شخص نے ’’کلما‘‘  کے ساتھ یہ قسم کھائی کہ میں جب بھی نکاح کروں تو میری بیوی کو طلاق، پھر فضولی نے اس کا نکاح کرا دیا اور کسی وجہ سے نکاح ٹوٹنے کے باعث دوبارہ نکاح کی ضرورت پیش آئی تو اب بھی اگر  وہ اپنا نکاح خود کرتا ہے تو ’’کلما ‘‘  کے مقتضٰی کی وجہ سے شرط پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی، لہذا اس صورت میں وہ اپنا نکاح خود نہیں کر سکتا، اس صورت میں بھی اگر تجدید کی گنجائش باقی ہو تو فضولی ہی نکاح کرائے اور یہ عملاً قبول کرلے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200399

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں