بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی سے ادھار لے کر حج کر سکتے ہیں؟ کیا والدہ اپنے بیٹے کو حج کروا سکتی ہیں؟


سوال

میں امریکا میں رہتا ہوں،  حج قریب ہے، میں حج کرنا چاہتا ہوں، مگر کچھ حالات کی وجہ سے ابھی حج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا،  البتہ میری والدہ کے پاس اللہ کے فضل سے پیسے ہیں، کیا وہ مجھے  اپنے پیسوں سے حج کروا سکتی ہیں؟

یا میں ان سے ادھار پیسے لے کر حج کر سکتا ہوں؟ میری والدہ کا کہنا ہے کہ میں پیسے ادھار لے کر حج نہیں کر سکتا۔

جواب

ادہارلے کر حج کرنا ضروری نہیں ہے، لیکن اگر آپ کی والدہ بخوشی آپ کے اخراجات اٹھانے پر رضامند ہوں  یا آپ کو ادہار دینے پر تیار ہوں توان کے دیے  گئے پیسوں سے حج ادا کر سکتے ہیں اور اس سےآپ کاحج  ادا ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200375

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے