بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا ڈرائیورز بغیر احرام کے میقات سے گزر سکتے ہیں؟


سوال

 ہم کچھ دوست جدہ میں رہتے ہیں، ہمارا کام ایسا ہے کہ ہمیں طائف سے گاڑی لوڈ کر کے جدہ آنا ہوتا ہے، بعض اوقات دن میں دو چکر بھی لگانے پڑ جاتے ہیں ہمیں طائف میقات سے گزر کر حدودِ حرم سے ہوتے ہوئے جدہ آنا پڑتا ہے، روزانہ مخصوص وقت نو انٹری کا بھی ہوتا ہے جس میں ہم مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے؛ اس لیے ہمیں اس مقررہ وقت سے پہلے نکلنا ضروری ہوتا ہے ورنہ داخلہ ممنوع ہو جاتا ہے اور ہمیں ۸ سے ۱۰ گھنٹے تک رکنا پڑتا ہے .  ایسی صورت میں ہم بلا قصد زیارتِ کعبہ و عمرہ حدودِ حرم سے بغیر احرام کے گزرتے ہیں، مجبوری یہ ہے کہ طائف سے جدہ کے راستے میں حدود حرم سے گزرنا ضروری ہے، ہم احرام باندھ کر نہیں آ سکتے، آ بھی جائیں تو روزانہ عمرہ اور بعض دن دو عمرے کرنا نا ممکن ہے، بعض دوست ایسے بھی ہیں جو روزانہ تو نہیں ہفتے یا دو ہفتے میں اس روٹ سے گزرتے ہیں، ان کے لیے بھی نو انٹری کا معاملہ ایسا ہی ہے، اس کے علاوہ سامان مقررہ جگہ پر خاص وقت میں پہنچانے کی مجبوری کی وجہ سے عمرہ کرنا ممکن نہیں. ایسی صورت میں کیا کیا جائے ؟ 

جواب

موجودہ زمانہ میں ٹیکسی ٹرک وغیرہ کے  ڈرائیورز، تاجر، دفاتر میں کام کرنے والے و دیگر پیشہ ورانہ کام کاج کرنے والے افراد جن کا دن میں کئی بار، یا روزانہ یا ہر دوسرے تیسرے دن میقات سے گزر  کر مختلف مقامات سے گزر  ہوتا ہو، ان کے لیے ہر بار احرامِ عمرہ پہننا اور احرام کی پابندی کرنا اور ہر بار عمرہ کرنا نہایت  دشوار ہے، جس کی وجہ سے ایسے افراد (مثلاً: طائف سے جدہ جانے والے )کے لیے احرام کے بغیر میقات سے گزر کر حدودِ حرم میں داخل ہونے کی گنجائش ہے، کسی قسم کا دم ان پر لازم نہیں ہوگا،  اگرچہ احرام باندھ کر گزرنا بہتر ہے۔ البتہ جن افراد کا گزر کبھی کبھار ہوتا ہو تو ان کے لیے احرام باندھ کر گزرنا لازم ہے۔

تفصیل کے لیے  دیکھیے:  حج کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا جلد دوم صفحہ 307، از مفتی محمد انعام الحق صاحب قاسمی۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے