بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا و لا الضالین کو ولا الدالین پڑھ سکتے ہیں؟


سوال

کیا و لا الضالین پڑھنا چاہیے یا ولا الدالین؟

جواب

واضح رہے کہ "ض" کو اس کے مخرج سے ہی پڑھنا چاہیے،  "ض"  کا تلفظ   "د" کرنا غلط ہے، اس طرح کرنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ  مسئولہ میں  " و  الا الضالین" کو  " الدالین" پڑھنا درست نہیں، ایسے پڑھنے سے نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ اگر کسی نے سہواً "الضالین" کو " الظالین" پڑھ لیا تو نماز ہوجائے گی، فاسد نہ ہوگی۔

فتاوى قاضيخان في مذهب الإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان  میں ہے:

"و إن ذكر حرفًا مكان حرف و غير المعني، فإن أمكن الفصل بين الحرفين من غير مشقة كالطاء مع الصاد فقرأ: الطالحات مكان الصالحات، تفسد صلاته عند الكل، و إن كان لايمكن الفصل بين الحرفين الا بمشقة كالظاء مع الضاد و الصاد مع السين، و الطاء مع التاء، اختلف المشائخ فيه، قال أكثرهم لاتفسد صلاته ... و لو قرأ الدالين بالدال تفسد صلاته". ( كتاب الصلاة، فصل في القراءة في القرآن، ١ / ١٢٩ - ١٣١، ط: دار الكتب العلمية )۔ 

امداد الفتاوی میں ہے:

’’سوال (۲۳۳) : قدیم ۱/ ۲۶۷- ضاد کو کس طرح پڑھنا چاہیے اور اکثر فقہاء کا قول کیا ہے اور اکثر کتب دینیات میں اس ذکر میں کیا لکھتے ہیں ؟

الجواب:  في الجزریة: والضاد من حافته إذ ولي       الأضراس من أیسر أویمناها.

جب مخرج معلوم ہوگیا تو ضاد کے ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اس کے مخرج سے نکالا جاوے۔ اس نکالنے سے بوجہ عدمِ مہارت خواہ کچھ ہی  نکلے عفو ہے اور اگر قصداً دال یا  ظاء پڑھے وہ جائز نہیں، جیسا کہ بعض نے دال پڑھنے کی عادت کرلی ہے۔ اور بعض نے فقہاء کے کلام میں یہ دیکھ کر کہ ضاد مشابہ ظاء ہے ظاء پڑھنا شروع کردیا؛ حال آں کہ مشابہت کی حقیقت صرف مشارکت فی بعض الصفات ہے اور مشارکت فی بعض الصفات سے اتحادِ ذات لازم نہیں آتا۔ رہا قاضی خان کے اس جزئیہ سے کہ ’’لو قرء ولا الظالین لاتفسد صلاته‘‘  ظاء پڑھنے کی اجازت سمجھ لینا اس کو دوسرے جزئیات قاضی خان کے رد کرتے ہیں ۔ وهي هذه:

’ولو قرء والعادیات ظبحًا بالظاء تفسد صلاته اهـ.  وکذ لو قرء غیر المغظوب علیهم بالظاء أو بالذال تفسد صلاته. و أمثال ذلك من الفروع المتعددة. والله أعلم‘‘. ( امداد الفتاوی جدید،کتاب الصلاة، باب القراءة، فصل: في التجوید تحقیق ’’ضاد وظاء‘‘ ، ٢ / ٢٥ - ٢٦، ط: زکریا بک ڈپو، ہند)

امداد الفتاوی میں ہے:

’’سوال (۲۳۲) : قدیم ۱/ ۲۶۲- قرآن مجید میں ضاد پڑھنے پر لوگوں نے مختلف ڈھنگ اختیار کیے ہیں، بہت لوگ دواد پڑھتے ہیں ، بہت لوگ صاف دال پڑھتے ہیں ، بہت لوگ ظا یا زا پڑھتے ہیں ، بہت لوگ عجب خلط کرتے ہیں کہ کہیں تو دواد پڑھتے ہیں اور کہیں صاف دال پڑھ دیتے ہیں ، اور ان خلط کرنے والوں کی تعداد دنیا میں بہت معلوم ہوتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے پڑھنے کو حنفیوں کے طریقے کے موافق سمجھتے ہیں ، باقی پڑھنے والوں کو اپنے زعم میں غیر مقلد جانتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ضاد کو دواد یا دال یا ظاء یا زا یا ذال پڑھنا سب ہی غلط ہیں ، مگر جو شخص جس طرح پڑھتا ہے اسی کو موافق قواعد تجوید جانتا ہے اور دوسرے طریقے سے پڑھنے والوں کو غلطی پر بتاتا ہے اور اس کی نماز کو فاسد خیال کرتا ہے، عوام کی توکچھ شکایت نہیں ان بے چاروں کا تو شین قاف تک درست نہیں ہوتا، یہ بلا آج کل کے حفاظ اورحضرات علماء میں دیکھتا ہوں ۔ اعراب کہیں معروف پڑھتے ہیں ، کہیں مجہول۔ وقف کرتے ہیں اور سانس نہیں توڑتے اظہار اور اخفاء بالکل نہیں کرتے۔ ترقیق و تفخیم کے نام سے بھی اچھی طرح واقف نہیں ۔ حروف قلقلہ و استعلاء وغیرہ کسی سے آگاہ نہیں ۔اس پر یہ حال کہ ایک فریق دوسرے فریق کی نماز کو باطل بتا رہا ہے اور سارا جھگڑا ہیر پھیر کرصرف ضاد ہی پر آرہا ہے، جس طرح ضاد کو ضاد پڑھنا قواعد تجوید کے موافق ہے، اسی طرح اور باتیں بھی ہیں ، مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اور باتوں میں جھگڑا کیوں نہیں کیا جاتا؟

  بعض حضرات علماء یہ فرمادیتے ہیں کہ حروف کو ان کے مخارج سے ادا کرنا چاہیے، و بس!  یہ بات بھی جی کو نہیں لگتی؛ کیوں کہ جس طرح حروف کوان کے مخارج سے اداکرنا مأمور بہ ہے، اسی طرح تجوید کی اور باتیں بھی مأموربہ ہیں۔ پھرصرف ایک قاعدہ پرعمل کرنے اور باقی کو ترک کرنے سے نماز کیوں کرصحیح یاکامل ہوجائے گی؟ شاید دونوں کے مأموربہ ہونے میں کچھ فرق ہو، جس کو میں نہیں جانتا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ضاد کو دواد پڑھنے پر اجماع منعقد ہو گیا ہے۔ یہ بات میرے جی کونہیں لگتی؛ کیوں کہ بعض ماہرین فن کو سنا ہے وہ تودواد نہیں پڑھتے۔

بعض حضرات ’’و رتل القرآن ترتیلاً‘‘ کی رو سے فن تجوید سیکھنے کو واجب فرماتے ہیں ۔ اگریہ بات صحیح ہے تو بڑی مشکل ہے، لاکھوں نمازیں برباد ہوئیں اور ہوتی ہیں اور ہوں گی؛ کیوں کہ یہ فن سخت مشکل ہے۔ حضرات علماء میں ہزاروں میں کہیں دو چار مجود نکلیں گے، مگر جو لوگ واجب فرماتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ کس قدر مقدار واجب ہے؟ بعض زور میں آکے یہ کہہ دیتے ہیں کہ حروف کے مخارج کا ادا کرنا اتنی مقدار واجب ہے؛ لیکن ان سے اس بات پر اگر کوئی دلیل نقلی طلب کرے تو فضول باتیں بنانے لگتے ہیں، اپنی ذاتی رائے کے سوا کچھ جواب نہیں بن آتا۔

امید کرتا ہوں کہ ضاد کے متعلق جو عرض کیا گیا ہے غور سے ملاحظہ فرما کرکافی شافی جواب مرحمت ہو، تاکہ قلب کو تسکین ہو اور اس کے مطابق اعتقاد و عمل رکھا جائے۔

الجواب: في فتاویٰ قاضي خان:

(وان ذکر حرفًا مکان حرف وغیر المعنی فإن أمکن الفصل بین الحرف من غیر مشقة کالطاء مع الصاد، فقرأ الطالحات مکان الصالحات تفسد صلاته عند الکل، وإن کان لایمکن الفصل بین الحرفین إلا بمشقة کالظاء مع الضاد، والصاد مع السین، والطاء مع التاء اختلف المشائخ فیه، قال أکثرهم: لاتفسد صلاته اهـ.

وفیها أیضًا: ولوقرأ والعادیات ظبحًا بالظاء تفسد صلاته اهـ.

وفیها: وکذا لو قرأ: {غیرالمغضوب علیهم} بالظاء وبالذال تفسد صلاته، ولو قرأ الظالین بالظاء أو بالذال لاتفسد صلاته، ولوقرأ الدالین بالدال تفسد صلاته اهـ ولو قرأ: {ونخل طلعها هضیم} قرء بالظاء وبالذال تفسد صلاته اهـ.

وفیها أیضًا: {ولسوف یعطیك ربك فترضیٰ} قرأ فترظٰی بالظاء تفسد صلاته اهـ.

وفیها: {کیدهم في تضلیل} قرأ بالظاء قال بعضهم: لاتصح اهـ.

وفیها: {ومن یضلل الله} قرأ بالظاء لاتفسد صلاته اهـ.

وفیها: {الذی فرض علیك القرآن} قرء بالظاء تفسد صلاته اهـ.

وفیها: {أء ذا ضللنا} قرء بالظاء ظللنا لاتفسد صلاته، وهو قراءة، {فمن فرض فیهن الحج} قرأ بالظاء فرظ وبالذال تفسد صلاته. اهـ".

ان روایات میں تدبر کرنے سے چند امور معلوم ہوتے ہیں:

ایک یہ کہ فسادِ صلاۃ  اس وقت ہے جب بلا مشقت دو حرفوں میں تمیز  کرسکے اور ضالین کو دال سے پڑھنا مفسدِ صلاۃ اسی بنا پر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جس طرح سے ضالین کو  اکثر  لوگ پڑھتے ہیں وہ دال نہیں ہے، جس سے بلا مشقت امتیاز ممکن ہے؛ البتہ اگر کوئی شخص خالص دال پڑھے گا تو اس کی نماز کو فاسد کہا جاوے گا۔ اور جس طرح سے اکثر  پڑھنا اس کا متعارف ہے گو  بوجہ مشق نہ کرنے کے وہ صحیح نہیں ہے، مگرصحیح حرف کوسننے والا اس امر کو پہچان سکتا ہے کہ یہ طریق متعارف اس کے مشابہ ہے، اس طرح کہ تمیز  دونوں میں شاق ہے، حتیٰ کہ جس شخص کو ضاد کے مخرج صحیح سے مشق کرائی جاتی ہے اور اس کو  پڑھ کر سنایا جاتا ہے، وہ ادا کرنے کے وقت کبھی کبھی اس متعارف طریق کو ادا کر بیٹھتاہے اور دونوں میں اس کو تمیز  دشوار ہوتی ہے؛ اس لیے اس طریق متعارف کو داخل دال کرکے مفسد صلاۃ  کہنا بعید ہے۔

دوسرا امر یہ معلوم ہوا کہ ضاد کی جگہ ظاء پڑھنے کو مفسدِ صلاۃ عند الاکثر نہ کہنا علی الاطلاق نہیں ہے؛ بلکہ اس وقت ہے جب کہ بلا عمد ہو، ورنہ وہ بھی مفسدِ صلاۃ ہے، ورنہ ’’والعادیات ضبحًا‘‘ اور ’’مغضوب علیهم‘‘ اور ’’هضیم‘‘ اور ’’فترضیٰ‘‘  اور ’’فرض‘‘  میں ظاء پڑھنے کو مفسدِ صلاۃ نہ کہا جاتا، چنانچہ مدار عدمِ فساد کا عدم امکان الفصل الا بمشقۃ کو ٹھیرانا اس کی دلیل ہے؛ کیوں کہ عمداً وہی پڑھے گا جو فصل بلامشقت کر سکتا تھا،  پس حاصل اس کا یہ ہوگا کہ جس شخص سے بلا مشقت فصل ممکن نہ ہو اور وہ ضاد پڑھنے کا قصد کرتا ہے، مگر ظا نکل گیا اس کی نماز صحیح ہو جاوے گی اور اس کے تعمد کی اجازت کو جزئیات مذکورہ فساد صلاۃ کی ردکرتی ہیں ۔ فافہم۔

تیسرا امر یہ معلوم ہواکہ ولا الضالین میں ظاء کاپڑھنا جو مفسد نہیں ہے، اس کی بنا  یہ نہیں ہے کہ ضاد کی جگہ عمداً  ظاء کا پڑھنا جائز ہے،  ورنہ ’’مغضوب علیهم‘‘ اور ’’ضالین‘‘ میں کیا فرق تھا کہ ’’مغضوب علیهم‘‘ میں تو ظاء کو مفسد بتا رہے ہیں اور ضالین میں غیر مفسد؛ بلکہ مبنیٰ اس کا یہ ہے کہ ضالین میں فسادِ معنی نہیں ہوتا، جیساقاموس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظل بالظاء کے معنی لیل اور جنح اللیل اور سواد السحاب کے بھی ہیں،  پس ظالین کے معنی مثلاً داخل فی الظلمات ہوں گے جوحاصل ہے ضلال بالضاد کا یا یہ افعال ناقصہ ظل یظل سے ہوگا بمعنی الکائنین اور خبر مقدر ہوگی فی ضلال یا فی غضب بقرینۃ مغضوب علیھم کے، جیسا ’’أء ذا ظللنا‘‘ بالظاء کی قرأت میں بھی یہ توجیہ ہوگی، جیسا آگے مذکور ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قاضی خان نے ’’والعادیات ضبحًا‘‘ وغیرہ میں تو ظاء کو مفسد کہا۔ اورجہاں جہاں مادہ ضلال کا آیا ہے جیسے ’’ومن یضلل الله‘‘ اور ’’أء ذا ظللنا‘‘ اس میں غیر مفسد کہا، ورنہ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ ہر جگہ عدم فساد اسی مادہ کے ساتھ خاص کیا گیا، چنانچہ ’’أء ذا ظللنا‘‘ میں خود ’’ظللنا‘‘ بالظاء کا ایک قراءت ہونا بھی نقل کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس قراءت کی رعایت سے ہر جگہ اس مادہ میں تاویل صحت معنی کی گئی ہے، اس وجہ سے مفسد نہیں کہا۔ اور ہر چند کہ تضلیل میں جو اسی مادہ سے ہے، بعض کا قول ’’لاتصح‘‘  نقل کیا ہے، مگر اس قول کو اپنی طرف منسوب نہ کرنا بعض مجہول کی طرف نسبت کرنا خود قرینہ ہے کہ یہ ان کا مختار نہیں ہے،  پس بناء مذکور پر ارجح یہاں بھی عدم فساد ہوگا، فتدبر وتشکر!

اور تجوید کی مقدار واجب صرف تصحیحِ حروف اوررعایتِ وقوف ہے،  اس طرح کہ تغیر مراد نہ ہوجاوے باقی مستحسن ۔

في فتاویٰ قاضي خان:

"وإن تغیرالمعنی تغیرًا فاحشًا نحو أن یقرء: لا اله، ویقف ثم یبتدء بقوله: إلا هو -إلی قوله- قال عامة العلماء: لاتفسد صلاته؛ لما قلنا، وقال بعضهم: تفسد صلاته اهـ".

قلت: الاختلاف في الفساد یوجب الوجوب".

اس بنا پر اکثر لوگوں نے اس واجب کوحاصل کر رکھا ہے اور بہت سے تارک بھی ہیں، مگر نماز ان کی بھی اکثر علماء کے قول پر ہوجاتی ہے، البتہ ایسوں کوامامت سے احتراز واجب ہے۔

في فتاویٰ قاضي خان:

"فإن کان لاینطق لسانه في بعض الحروف -إلی قوله- لایؤم غیره، کذا الرجل إذاکان لایقف في مواضع الوقف اهـ". والله أعلم‘‘.

۱۸؍ربیع الاول۱۳۲۱؁ھ(امدادصفحہ۱۰۸ج۱) ( امداد الفتاوی جدید، کتاب الصلاة، باب القراءة، فصل: في التجوید تحقیق ’’ضاد وظاء‘‘ ، ٢ / ٢١ - ٢٥، ط: زکریا بک ڈپو، ہند)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200466

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں