بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1441ھ- 05 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا غسل کے ضمن میں وضو ہوجاتا ہے؟


سوال

صرف پانی بہانا  تمام جسم پر اور فرائض سمیت غسل کرنا،  آیا ان دونوں صورتوں میں وضو ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وضو  منہ، ہاتھ  اور  پاؤں کو  دھونے اور سر پر مسح کرنے کا نام ہے، پس جب انسان غسل کرتا ہے(یعنی پورے جسم پر پانی بہاتاہے) تو اس کے ساتھ ساتھ وضو بھی ہو جاتاہے اور غسل کے بعد حدث پیش آئے بغیر وضو کرنے کی حاجت نہیں، بلکہ اگر کوئی اس کی عادت بنائے یا اسے اچھا سمجھے تو اسے منع کیا جائے گا،  البتہ غسل سے قبل وضو کرنا مسنون ہے اور یہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول رہا ہے۔

یہ یاد رہے کہ غسلِ جنابت میں ناک میں اچھی طرح پانی ڈالنا اور منہ بھر کر کلی کرنا فرائض میں شامل ہے، لہذا غسل جنابت میں اگر یہ فرائض چھوٹ جائیں تو غسل کامل نہ ہوگا اور نہ ہی اس سے نماز کی ادائیگی درست ہوگی جب تک کہ ان دونوں فرائض کو ادا نہ کرلیں۔

غسلِ مسنون یا غسلِ  تبرید  (ٹھنڈک کے لیے غسل) میں اگر مضمضہ اور استنشاق رہ بھی گئے تب بھی غسل اور اس غسل کے ضمن میں وضو ہوجائے گا۔

"ترمذی شریف"  میں ہے:

"عن عائشة أن النبي صلي الله عليه وسلم كان لايتوضأ بعد الغسل. قال أبو عيسی: هذا قول غير واحد من أصحاب النبي صلي الله عليه وسلم و التابعين أن لايتوضأ بعد الغسل". (أبواب الطهارة، باب في الوضوء بعد الغسل ١/ ٣٠، ط: قديمي)

"معارف السنن"  میں ہے:

"و يقول القاضي في العارضة: لم يختلف أحد من العلماء في أن الوضوء داخل في الغسل..."الخ (أبواب الطهارة، باب الوضوء بعد الغسل، ١/ ٣٦٨، ط: مجلس الدعوة و التحقيق)

"الدر المختار" میں ہے:

"أما لو توضأ بعد الغسل ..."

و في الرد : "قال العلامة نوح آفندي: بل ورد ما يدل علی كراهته، أخرج الطبراني في الأوسط عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسو الله صلي الله عليه وسلم: من توضأ بعد الغسل فليس منا اهـ تأمل، و الظاهر أن عدم استحبابه لو بقي متوضئاً إلى فراغ الغسل، فلو أحدث قبله ينبغي إعادته، و لم أره، فتأمل". (كتاب الطهارة ١/ ١٥٨، ط: سعيد)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200329

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے