بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شوال 1441ھ- 01 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا عید الفطر کی نماز پہلے دن کے علاوہ ادا کی جاسکتی ہے؟


سوال

عیدالفطر کی نماز کتنے دنوں تک پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب

عید الفطر کی نماز اگر کسی عذرِ شرعی کی وجہ سے پہلے دن ادا نہیں کی جاسکے تو دوسرے دن زوال سے قبل تک ادا کی جاسکتی ہے، البتہ تیسرے دن ادا کرنے کی اجازت نہیں، تاہم عید الاضحی کی نماز پہلے یا دوسرے دن کسی عذر کی وجہ سے ادا نہ کی جاسکے تو تیسرے دن زوال سے قبل تک ادا کرنے کی اجازت ہے۔

مراقي الفلاحمیں ہے:

"وتؤخر" صلاة عيد الفطر "بعذر" كأن غم الهلال وشهدوا بعد الزوال أو صلوها في غيم فطهر أنها كانت بعد الزوال فتؤخر "إلى الغد فقط" لأن الأصل فيها أن لاتقضى كالجمعة إلا أنا تركناه بما روينا من أنه عليه السلام أخرها إلى الغد بعذر ولم يرو أنه أخرها إلى ما بعده فبقي على الأصل وقيد العذر للجواز لا لنفي الكراهة فإذا لم يكن عذر لاتصح في الغد .... "وتؤخر" صلاة عيد الأضحى "بعذر" لنفي الكراهة وبلا عذر مع الكراهة لمخالفة المأثور "إلى ثلاثة أيام" لأنها مؤقتة بوقت الأضحية فيما بين الارتفاع إلى الزوال ولاتصح بعدها". ( حاشية الطحطاوي علي المراقي، كتاب الصلاة، باب صلاة العيد ١ / ٥٣٦ - ٥٣٨) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200330

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے