بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا عمامہ باندھنا بدعت ہے؟


سوال

کیا فتحِ مکہ کے دن کے علاوہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پگڑی پہننا ثابت ہے؟   عرب دنیا میں پگڑی کا  بالکل رواج نہیں، حتی کہ ائمہ حرمین بھی نہیں پہنتے،  ایک طبقے کا کہنا ہے کہ یہ بدعت ہے، ورنہ عرب میں کہیں نہ کہیں تو اس کا رواج ہوتا؟  ان کے بقول دیگر کئی چیزوں کی طرح یہ بھی برصغیر کی بدعت ہے۔  اس حوالے سے راہ نمائی فرمائیے!

جواب

پگڑی/ عمامہ باندھنا ،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے  اور سننِ عادیہ میں سے ہے،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتحِ  مکہ کے علاوہ بھی عمامہ باندھنا ثابت ہے۔  چند روایات ملاحظہ فرمائیے: 

1-   حضرت عمرو بن حُریث  رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضورِ  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے لوگوں کو خطبہ دیا تو آپ کے (سر کے) اوپرکالا عمامہ تھا۔  (صحیحمسلم)
2-   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورِ  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے (مرض الوفات) میں خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  (کے سر ) پر کالا عمامہ تھا۔  (صحیح بخاری وشمائل ترمذی)

3-   حضرت ابو سعید الخدری  رضی اللہ عنہ کی روایت ہے  کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام عمامہ یا قمیص یا چادر رکھتے،  پھر یہ دعا پڑھتے: اے میرے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ پہنایا، میں اس کپڑے کی خیر اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کی اور جس کے  لیے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ترمذی) 
4-   حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو وضو کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر قطری عمامہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عمامہ کے نیچے اپنا ہاتھ داخل فرمایا اور سر کے اگلے حصہ کا مسح فرمایا اور عمامہ کو نہیں کھولا۔ (سنن ابو داؤد) 
5-   حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: محرم (یعنی حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والا) کرتا، عمامہ، پائجامہ اور ٹوپی نہیں پہن سکتا ۔  (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

محرم کے لیے عمامہ کی ممانعت سے معلوم ہوتا ہے کہ عمامہ باندھنا اس زمانے کا عام رواج تھا۔

6- حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب عمامہ باندھتے تھے تو اسے (یعنی شملہ کو) دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکا (چھوڑ) دیتے تھے۔ (ترمذی)

7- حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے سر پر عمامہ باندھا، اور اس کی ایک جانب میرے سامنے اور ایک پچھلی جانب چھوڑی۔ (ابوداؤد)

8- کتبِ حدیث، سیرت وشمائل میں رسول اللہ ﷺ کے عماموں اور ان کی لمبائی وغیرہ کا بھی ذکر ہے۔

9- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو کئی روایات میں ان کے عمامے کا استعمال ملتاہے، بلکہ جنگوں کے دوران بھی عمامہ پہننا بہت سے صحابہ سے ثابت ہے۔ 

 لہذا یہ کہنا یہ پگڑی/ عمامہ باندھنا بدعت ہے، درست نہیں۔ 

رہا یہ کہ کہنا کہ عرب میں اب  بالکل رواج نہیں رہا تو عرض ہے کہ اول تو عرب کی موجودہ تہذیب کو دورِ نبوی کا نمونہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اس بدلے ہوئے کلچر کو شرعی دلیل بنایا جاسکتا ہے۔  نیز یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اب عرب میں بالکل رواج نہیں،  بلکہ عرب دنیا کے بہت سے قابلِ  قدر  اہلِ علم اور بعض خطوں کے لوگ اب بھی عمامہ باندھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔  لہذا عمامہ کو برصغیر کی بدعت شمار کرنا  نااںصافی، اور لاعلمی پر مبنی بات ہے۔  فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144103200088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے