بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1441ھ- 09 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا سال گرہ منانا بدعت ہے؟


سوال

 کیا سال گرہ (birthday) منانا (بدعت) جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ’’بدعت‘‘  کا اطلاق اُس نو ایجاد عمل پر ہوتا ہے جسے خیر القرون کے زمانہ میں اس  کی ضرورت یا اِمکان کے باوجود نہ کیا جائے، اور بعد کے زمانے میں اور اُسے دین (ثواب) کا کام سمجھ کر کیا یا چھوڑا جائے، اور ترک کرنے والے کو ملامت کی جائے۔

آج کل کے زمانہ میں ’’سال گرہ‘‘  منانے کی رسم کو کوئی بھی دین کا کام سمجھ کر نہیں مناتا؛  لہذا اسے اصطلاحی اعتبار سے ’’بدعت‘‘  نہیں کہا جائےگا۔ البتہ  یہ رسم، مغربی رسم ہے،  جوچلتے چلتے مسلمانوں میں رواج پذیر ہوگئی، اوراب بعض مسلمان اس رسم کومنانے کا اہتمام اوراس کے لیے باقاعدہ ناجائز امور پر مشتمل محافل منعقد کرتے ہیں، اس لیے سال گرہ کی ایسی تقریب جو ناجائز امور پر مشتمل ہو تو وہ بھی ناجائز ہوگی۔

  تاہم اگر سال گرہ منانے میں خرافات اور ناجائز امور سے اجتناب کیا جائے اور  بطورِ شکرانہ یا ایک تاریخی یادگار  کی تقریب کے طور پر اعزہ  و اقرباء  جمع  ہوجائیں تو فی نفسہ اس کی گنجائش ہے۔

کفایت المفتی میں ہے :

’’یادگار سار (عمر) کے لیے ڈورے میں گرہ باندھنا، بکرے ذبح کرنا، مہمان داری کرنا۔

(جواب) سال گرہ منانا کوئی شرعی تقریب نہیں ہے،  ایک حساب اور تاریخ کی یادگار ہے،  اس کے لیے یہ تمام فضولیات محض عبث اور التزام مالایلتزم میں داخل ہیں‘‘۔ (۹ / ۸۴، دار الاشاعت) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201907

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے