بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا رات میں کپڑے تبدیل کرنا سنت ہے؟


سوال

کیا رات میں کپڑے تبدیل کرکے سونا سنت ہے ؟مدلل جواب دیں!

جواب

تلاش کے باوجود ایسی کوئی سنت نہیں ملی۔  اس کے برخلاف رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات میں اسی لباس میں آرام فرمانا اور امہات المؤمنین سے ملنا ثابت ہے جو دن میں بھی زیب تن فرماتے تھے ۔ لہٰذا رات کے وقت لباس تبدیل کرنا یا اس کے لیے الگ کپڑے مختص کرنا سنت نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص رات یا دن میں سونے کے لیے الگ لباس مختص کردے اور لباس عمدہ نہ ہو (یعنی شرفاء کی مجالس میں اسے پہننا مروت کے خلاف سمجھاجائے) تو اس لباس میں نماز ادا کرنا مکروہ ہوگا، لیکن اگر سوتے وقت پہنا جانے والا لباس بھی معمول کے کپڑے ہوں جو عموماً مجالس میں پہنے جاتے ہوں اور ان پر کوئی ناپاکی نہ ہو تو  ان کپڑوں میں بلاکراہت نماز ادا ہوجائے گی۔

"روى البخاري (231) ، ومسلم (289) عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ أَيَغْسِلُهُ أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ ؟ فَقَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغَسْلِ فِيهِ )". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے