بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا دل میں کسی پر غصہ ہونے کے باوجود سامنے مسکراکر بات کرنا منافقت ہے ؟


سوال

اگر آپ کو کسی پر غصہ ہے اور آپ مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے یا اکھڑے لہجے میں بات کرنے کی بجائے مسکرا کر اور سیدھے منہ بات کرتے ہیں اور اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں تو کیا یہ منافقت ہے؟

جواب

اگر کسی پر کسی بھی وجہ سے دل میں غصہ ہو، لیکن اس کے سامنے بجائے سخت لہجے میں بات کرنے کے اپنے غصے کو برداشت کرتے اور چھپاتے ہوئے اس سے مسکراکر بات کی جائے تو یہ منافقت نہیں بلکہ برداشت کی علامت ہے۔ البتہ دل میں کڑھتے رہنا اچھا نہیں ہے، اگر مسئلہ حل کرکے دل صاف کیے جاسکتے ہوں تو  جانبین سے معاملہ حل کرلیا جائے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کا اجر پانے کے لیے دل سے معاف کردینا چاہیے۔ معاف کردینے اور ظاہری تعلقات نبھانے اور ضروری حقوق ادا کرنے کے بعد  غیر اختیاری طور  پر دل میں جو کدورت ہو امید ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201340

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے