بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا جس عورت کی ڈاڑھی مونچھ نکلے اس میں نحوست ہوتی ہے؟


سوال

میری بیوی کی داڑھی اور مونچھ  ہےجسے وہ صاف بھی کر کے رکھتی  ہے، یعنی مونڈتی ہے۔  میرا سوال یہ ہے کہ کیا داڑھی والی عورت منحوس ہوتی ہے؟ کیوں کہ جب سے وہ آئی ہے،  میں لگاتار مالی لحاظ سے زوال پذیر ہوتا جا رہا ہوں، اب تو حالت فاقوں اور قرضوں تک آگئی ہے؟

جواب

نحوست اپنے حقیقی معنی میں کسی چیزیں میں نہیں ہوتی،  لہذا کسی چیز کے منحوس ہونے کا عقیدہ رکھنا درست نہیں ہے، اگر عورت کی ڈاڑھی یا مونچھ نکل آئے تو اس سے وہ منحوس نہیں ہوجاتی،  لہذا آپ اس قسم کے توہمات کا شکار نہ ہوں۔

توہمات کے بجائے اعمال کی طرف دہیان دیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں، پنج وقتہ نمازوں کی پابندی، گناہوں (خصوصاً تنہائی کے گناہ اور زبان کے گناہوں )سے اجتناب اور استغفار کی کثرت کے ساتھ ساتھ سورہ واقعہ اور سورہ طارق،  فجر اور مغرب کے بعد ایک ایک مرتبہ پڑھنےکا اہتمام کریں۔ 

اور جس قدر توفیق ہو صدقہ نکال لیاکریں، خواہ  پانچ، دس روپے ہو، نیز گھر میں سورۂ بقرہ پڑھنے کا بھی معمول بنائیں۔ ان ہی اعمال کی پابندی آپ کی اہلیہ بھی کریں۔ 

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (14/ 150):
"وَالْمعْنَى الصَّحِيح فِي هَذَا الْبَاب نفي الطَّيرَة بأسرها بقوله: (لَا طيرة)، فَيكون قَوْله  عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام: (إِنَّمَا الشؤم فِي ثَلَاثَة) بطرِيق الْحِكَايَة عَن أهل الْجَاهِلِيَّة؛ لأَنهم كَانُوا يَعْتَقِدُونَ الشؤم فِي هَذِه الثَّلَاثَة، لَا أَن مَعْنَاهُ: أَن الشؤم حَاصِل فِي هَذِه الثَّلَاثَة فِي اعْتِقَاد الْمُسلمين، وَكَانَت عَائِشَة رَضِي الله تَعَالَى عَنْهَا، تَنْفِي الطَّيرَة وَلَاتعتقد مِنْهَا شَيْئاً، حَتَّى قَالَت لنسوة كن يُكْرهن الابتناء بأزواجهن فِي شَوَّال: (مَا تزَوجنِي رَسُول الله، صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، إلاَّ فِي شَوَّال، وَلَا بنى بِي إلاَّ فِي شَوَّال، فَمن كَانَ أحظى مني عِنْده؟ وَكَانَ يسْتَحبّ أَن يدْخل على نِسَائِهِ فِي شَوَّال). وروى الطَّحَاوِيّ عَن عَليّ بن معبد، قَالَ: حَدثنَا يزِيد بن هَارُون قَالَ: أخبرنَا همام ابْن يحيى عَن قَتَادَة عَن أبي حسان، قَالَ: دخل رجلَانِ من بني عَامر على عَائِشَة، فأخبراها أَن أَبَا هُرَيْرَة يحدث عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أَنه قَالَ: (الطَّيرَة فِي الْمَرْأَة وَالدَّار وَالْفرس)، فَغضِبت وطارت شقة مِنْهَا فِي السَّمَاء وشقة فِي الأَرْض، فَقَالَت: وَالَّذِي نزل الْقُرْآن على مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم مَا قَالَه رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قطّ، إِنَّمَا قَالَ: (إِن أهل الْجَاهِلِيَّة كَانُوا يَتَطَيَّرُونَ من ذَلِك)، فَأخْبرت عَائِشَة أَن ذَلِك القَوْل كَانَ من النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حِكَايَةً عَن أهل الْجَاهِلِيَّة، لَا أَنه عِنْده كَذَلِك. وَأخرجه أَيْضا ابْن عبد الْبر عَن أبي حسان الْمَذْكُور، وَفِي رِوَايَته: كَذَّاب، وَالَّذِي أنزل الْقُرْآن ... وَفِي آخِره، ثمَّ قَرَأت عَائِشَة: {مَا أصَاب من مُصِيبَة فِي الأَرْض وَلَا فِي أَنفسكُم إلاَّ فِي كتاب} (الْحَدِيد: 22). الْآيَة. قلت: أَبُو حسان الْأَعْرَج، وَيُقَال: الأجرد واسْمه: مُسلم بن عبد الله الْبَصْرِيّ، وَثَّقَهُ يحيى وَابْن حبَان، وروى لَهُ الْجَمَاعَة وَالْبُخَارِيّ مستشهداً. قَوْله: طارت شقة، أَي: قِطْعَة، وَرَوَاهُ بعض الْمُتَأَخِّرين: بِالسِّين الْمُهْملَة، وَأَرَادَ بِهِ الْمُبَالغَة فِي الْغَضَب والغيظ. وَقَالَ أَبُو عمر: قَول عَائِشَة فِي أبي هُرَيْرَة كذب، فَإِن الْعَرَب تَقول: كذبت إِذا أَرَادوا بِهِ التَّغْلِيظ، وَمَعْنَاهُ: أوهم وَظن حَقًا وَنَحْو هَذَا. وَهنا جَوَاب آخر: وَهُوَ أَنه يحْتَمل أَن يكون قَوْله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: (الشوم فِي ثَلَاثَة)، كَانَ فِي أول الْإِسْلَام خَبراً عَمَّا كَانَ تعتقده الْعَرَب فِي جَاهِلِيَّتهَا على مَا قَالَت عَائِشَة، ثمَّ نسخ ذَلِك وأبطله الْقُرْآن وَالسّنَن، وأخبار الْآحَاد لَاتقطع على عينهَا، وَإِنَّمَا توجب الْعَمَل فَقَط. وَقَالَ تَعَالَى: {قل لن يصيبنا إلاَّ مَا كتب الله لنا هُوَ موليٰنا} (التَّوْبَة: 9) . وَقَالَ {مَا أصَاب من مُصِيبَة فِي الأَرْض ... } (الْحَدِيد: 9) . الْآيَة، وَمَا خطّ فِي اللَّوْح الْمَحْفُوظ لم يكن مِنْهُ بُد، وَلَيْسَت الْبِقَاع وَلَا الْأَنْفس بصارفة من ذَلِك شَيْئاً. وَقد يُقَال: إِن شُؤْم الْمَرْأَة أَن تكون سَيِّئَة الْخلق، أَو تكون غير قانعة، أَو تكون سليطةً، أَو تكون غير ولود. وشؤم الْفرس أَن يكون شموساً". 
فقط واللہ اعلم

نیز قرض سے گلوخلاصی سے متعلق  وظیفہ کے لیے درج ذیل لنک پر بھی فتاوی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے :

قرض کے بوجھ سے خلاصی کے لیے وظیفہ


فتوی نمبر : 144103200410

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے