بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1441ھ- 05 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا بچے کا نام ”محمد“ رکھ کر اس کو ڈانٹنا اور برا بھلا کہنا بے ادبی ہوگی؟


سوال

صرف ’’محمد‘‘  نام رکھنا کیسا ہے؟کیوں کہ اس کو  ڈانٹا یا برا بھلا وغیرہ وغیرہ کہا جاتا ہے ؟

جواب

’’محمد‘‘  نام رکھنا جائز،  بلکہ باعثِ برکت وفضیلت ہے،  باقی  ”محمد“ نام والے بچے کو تنبیہ کی غرض سے ڈاٹنے وغیرہ سے یا برا بھلا کہنے سے آپ ﷺ کی بے ادبی لازم نہیں آئے گی، بلکہ اس سے مراد وہی بچہ ہوگا جس کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ بچے کو تنبیہ کرتے ہوئے بھی تہذیب اور اسلامی آداب وتعلیمات کی رعایت ضروری ہے، نام بگاڑنا یا گالم گلوچ یا غیر شائستہ گفتار ویسے بھی شرعاً منع ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں:

محمد نام رکھنے کا حکم اور اس کی فضیلت


فتوی نمبر : 144104200405

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں