بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا بلا قصد لغزش زبان کی بنا پر کفر لازم آتا ہے؟


سوال

میں ان دنوں عربی گرائمر پڑھ رہا تھا،  ایک لڑکے الف نے 8 بندوں کی محفل میں دوسرے لڑکے ب کو غلیظ الفاظ بول دیے۔ میں  لڑکے ب کو بتانے کے لیے کہ اس نے تم کو غلط الفاظ بولے ہیں،  عربی میں الفاظ غلط استعمال کرگیا۔مجھے کہنا تھا ’’کلامه غلیظ‘‘  اور میں زبان کے پھسلنے کی وجہ سے  کہہ گیا:’’کلام الله ...‘‘آگے وہ لفظ۔ اب اس کا کفارہ کیا ہوگا؟  اور کیا کیا کرنا پڑےگا؟ تاہم اسی وقت مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ غلط لفظ نکلا ہے۔میں نے استغفار بھی کی اور کلمہ بھی پڑھا۔اس کے علاوہ اور کیا ضروری اقدامات کرنے پڑیں گے؟

جواب

گفتگو کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے، تاہم صورتِ مسئولہ میں چوں کہ آپ کی زبان سے بلا قصد و ارادہ مذکورہ الفاظ نکلے تھے اس وجہ سے کفر لازم نہیں آیا، توبہ و استغفار کرنا ضروری تھا جوکہ آپ کرچکے ہیں، آئندہ سوچ سمجھ کر گفتگو کرنے کی عادت ڈالیں۔

فتاوی تتارخانیہ میں ہے:

"وما كان خطأ من الألفاظ، لاتوجب الكفر، فقائله مؤمن علی حاله، و لايؤمر بتجديد النكاح، و لكن يؤمر بالإستغفار و الرجوع عن ذلك". ( كتاب أحكام المرتدين، الفصل الأول، ٧/ ٢٨٤، ط: زكريا) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200536

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے