بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا اپنے مزدوروں کی مزدوری روک کر اور دھوکا دہی کرکے پیسے جمع کرنا اور عمرہ پر جانا جائز ہے؟


سوال

ایک شخص ٹھیکیداری کرتا ہے،  وہ اپنے مزدوروں کو مزدوری بھی ادا نہیں کرتا، اور نہ ہی جن کا کام کر رہاہو  وہ ایمان داری سے کرتا ہے، بلکہ آدھا کام کر کے اس کے بعد چھوڑ جاتا ہے، اور جھوٹ اور فریب اس کی زندگی کے عام معمولات کا حصہ ہے، ایسے شخص کا عمرہ اور اس حرام مال (جس میں لوگوں کے حقوق غصب ہوں، اس مال )سے اپنے والدین یا بیوی بچوں کو عمرہ کرانا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مزدوروں کی مزدوری روکنا اور کام ادھورا چھوڑ کر جھوٹ کہنا،حیلہ بہانا کرنا، اور دھوکا دہی سے کام لینا ناجائز عمل ہے، جھوٹ، دھوکے اور حقوق غصب کرکے حاصل شدہ پیسے سے عمرہ ادا کرنا جائز نہیں۔ اگر کوئی اس طرح عمرہ کرلے تو نفسِ عمرہ ادا ہوجائے گا، لیکن مذکورہ گناہوں کا وبال ذمے میں رہے گا، اس لیے اصل مالکان کو ان کی رقم واپس کرنا اور اصحابِ حقوق (ملازمین) کا حصہ انہیں ادا کرکے آخرت کے مؤاخذے سے خود کو بچانا لازم ہے۔ اور اگر مذکورہ شخص حرام رقم کے علاوہ حلال آمدن سے عمرہ کی ادائیگی کرتاہے تو عمرہ ادا کرنا جائز ہوگا، تاہم حقوق کی عدمِ ادائیگی اور گناہوں کا وبال ذمے میں رہے گا، اس بوجھ سے خلاصی کی سعی بہرحال واجب ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201864

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے