بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا احتجاج کرنا جائز ہے؟


سوال

ہمارے علاقے میں پانی کی بہت قلت ہے، کئی بار واٹر بورڈ والوں سے کہا ہے، لیکن اب تک مسئلہ حل نہیں ہوا، اب محلہ والوں نے احتجاج کا سوچا ہے اور ہر گھر سے ایک ایک فرد کو اس میں شرکت کی دعوت دی ہے، شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ احتجاج میں جانا کیسا ہے؟

جواب

آپ نے سوال احتجاج کی صورت ذکر نہیں کی کہ اس احتجاج کی کیا نوعیت ہوگی؟ شرعی حدود میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے مطالبہ کے لیے پرامن احتجاج کرنا جائز ہے، جس کے لیے خود حکومت کی جانب سے بھی بعض جگہیں (پریس کلب وغیرہ) متعین ہیں، البتہ عوامی راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا یا سرکاری وذاتی املاک کی تھوڑ پھوڑ جیسےاعمال جائز نہیں، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143711200026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے