بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیوں کا نبی پکارنا درست ہے؟


سوال

کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیوں کے بھی نبی پکار سکتے ہیں?

جواب

سیدنا ومولانا  محبوبِ دو جہاں حضرت محمد ﷺ تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام سے افضل اور تمام انبیاء  کے سردار ہیں، یہی وجہ ہے کہ معراج کی رات بھی آپ ﷺ نے ہی تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کی امامت کی،  آپ ﷺ کی نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک محیط ہے، اور اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاءِ کرام  علیہم السلام سے  یہ عہد لیا تھا کہ کہ اگر وہ آپ ﷺ کے زمانہ کو پائیں تو  ان پر ظاہراً بھی ایمان لائیں گے اور اپنی اپنی امتوں کو بھی اس کی تلقین کریں گے، قر آنِ مجید میں اس کا ذکر کچھ اس طرح ہے:

وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ (اٰل عمران 81)

ترجمہ :” اور جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم دوں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آوے جو مصدق ہو اس کا جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس رسول پر اعتقاد بھی لانا اور اس کی طرف داری بھی کرنا۔ فرمایا کہ آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا؟ وہ بولے :ہم نے اقرار کیا،  ارشاد فرمایا: تو گواہ رہنا اور میں اس پر تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔(از بیان القرآن)

اس آیت میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ پختہ عہد لیا کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے جو یقیناً پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا، تو پہلے نبی کے  لیے ضروری ہے کہ پچھلے نبی کی سچائی اور نبوت پر ایمان خود بھی لائے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت کرے، قرآن کے اس قاعدہ کلیہ سے روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی اسی طرح کا عہد انبیاء سے لیا ہوگا، یہ تو اس وقت ہے جب آیتِ مبارکہ میں "رسول" سے کوئی بھی رسول ہو، جب کہ بعض مفسرینِ کرام نے "رسول" سے مراد ہی رسول اللہ ﷺ لیے ہیں۔ 

علامہ سبکی (رح) اپنے رسالہ "التعظیم والمنۃ فی لتومنن بہ ولتنصرنہ " میں فرماتے ہیں کہ " آیت میں رسول سے مراد محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات و صفات کے بارے میں تائید و نصرت اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا عہد نہ لیا ہو، اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور تائید و نصرت کی وصیت نہ کی ہو، اور اگر حضورِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت انبیاء کے زمانے میں ہوتی تو ان سب کے نبی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہوتے اور وہ تمام انبیاء آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں شمار ہوتے، اس سے معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان محض "نبی الامت" ہی کی نہیں ہے، بلکہ "نبی الانبیاء" کی بھی ہے۔

چناچہ ایک حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا۔

اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے تو وہ بھی قرآنِ حکیم اور تمہارے نبی ہی کے اَحکام پر عمل کریں گے۔ (تفسیر ابن کثیر)

اس سے معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت " عامہ اور شاملہ " ہے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں سابقہ تمام شریعتیں مدغم ہیں، اس بیان سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اشاد " بعثت الی الناس کافۃ " کا صحیح مفہوم بھی نکھر کر سامنے آجاتا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ سمجھنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے سے قیامت تک کے لیے ہے صحیح نہیں، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا زمانہ اتنا وسیع ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی نبوت سے پہلے شروع ہوتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ " کنت نبیاً و اٰدم بین الروح والجسد". 

محشر میں شفاعتِ کبری کے لیے پیش قدمی کرنا اور تمام بنی آدم کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھنڈے تلے جمع ہونا اور شبِ معراج میں بیت المقدس کے اندر تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام  کی امامت کرانا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسی سیاستِ عامہ اور امامتِ عظمی کے آثار میں سے ہے۔ (معارف القرآن 2/100، ط: مکتبہ معارف القرآن)

لہذا مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو  اس معنی میں نبیوں کا نبی کہنا بھی درست ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200579

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے