بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کھیل میں جانبین سے رقم کی شرط لگانا


سوال

موبائل ایپ میں ایک کھیل ہے جس میں کمپنی کی طرف سے شرط ہوتی  ہے کہ آپ نے ایک ٹیم کو سلیکٹ کرنا ہوگا، اور مثلاً آپ نے ایک ٹیم پر 100 روپے شرط لگائی اگر آپ کی ٹیم جیت گئی تو کمپنی کے طرف سے آپ کو 200 روپے ملیں  گے، اگر آپ کی ٹیم جیت حاصل نہ کرسکے تو آپ کے کل پیسے کمپنی کو ملیں گے۔لیکن اگر آپ کو لگے کہ میری ٹیم ہارنے والی  ہے تو آپ پیسے واپس بھی لے سکتےہیں لیکن جو 100 روپے لگائےتھے، ان میں سے کٹوتی بھی ہوگی۔یہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

مذکورہ کھیل میں حصہ لینا شرعاً جائز نہیں ہے، اول تو  اس وجہ سے کہ اس کھیل کا مقصد محض وقت کا ضیاع ہے اس میں انسان کا دنیوی یااخروی ،صحت یا ورزش کے اعتبار سے کوئی فائدہ نہیں ، نیز  عموماً اس طرح کے کھیلوں میں جان دار کی تصاویر بھی ہوتی ہیں، لہٰذا اگر اس میں جان دار کی تصاویر ہوں تو اس وجہ سے بھی اس میں حصہ لینا جائز نہیں ہوگا۔  مزید یہ کہ اس کھیل میں جانبین سے شرط لگائی جاتی ہے ، جس کی بنا پر زائد انعامی رقم بھی مل جاتی ہے،بسااوقات رقم ضبط ہوجاتی ہے یا کٹوتی کی جاتی ہے ،یہ صورت جوئے کی ہے جو کہ حرام ہے ،لہذا مذکورہ وجوہات کی بنا پر اس کھیل میں حصہ لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200858

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے