بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1442ھ- 29 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کھڑی فصل کا بھوسہ خریدنا یا  بیچنا


سوال

کھڑی فصل کا بھوسہ خریدنا یا  بیچنا از روئے شریعت جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

کھڑی فصل کاٹنے سے پہلے اس کے بھوسے کی خرید و فروخت کرنا شرعا جائز نہیں،البتہ خرید و فروخت کا وعدہ کرنا جائز ہے۔

درر الحكام شرح مجلة الأحكام - (1 / 156):
"بَيْعُ الْمَعْدُومِ بَاطِلٌ؛ فَيَبْطُلُ بَيْعُ ثَمَرَةٍ لَمْ تَبْرُزْ أَصْلًا. الْمَعْدُومُ إمَّا أَنْ يَكُونَ مَعْدُومًا حَقِيقَةً، أَوْ مَعْدُومًا عُرْفًا، وَالْمَعْدُومُ عُرْفًا هُوَ الْمُتَّصِلُ اتِّصَالًا خِلْقِيًّا بِغَيْرِهِ، وَبَيْعُ الْمَعْدُومِ سَوَاءٌ أَكَانَ حَقِيقَةً أَمْ عُرْفًا بَاطِلٌ. ( اُنْظُرْ شَرْحَ الْمَادَّةِ 97 1 ) ... وَكَذَلِكَ بَيْعُ التِّبْنِ وَهُوَ فِي السُّنْبُلِ قَبْلَ التَّذْرِيَةِ بَاطِلٌ؛ لِأَنَّ التِّبْنَ لَايَكُونُ مِنْ السُّنْبُلِ إلَّا بَعْدَ الدِّرَاسِ فَبَيْعُهُ قَبْلَ ذَلِكَ بَيْعٌ لِلْمَعْدُومِ". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں