بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کھٹمل کو زندہ جلانے اور پانی میں ڈالنے کا حکم


سوال

کھٹمل کو زندہ جلانے کا حکم کیا ہے؟ نیز یہ بھی وضاحت  فرما دیں کہ کھٹمل کو پانی میں  زندہ ڈالنا  کیسا ہے؛ کیوں کہ اس سے یہ پھیلتے نہیں۔

جواب

کسی بھی موذی جانور  کو بلاضرورت شدیدہ جلا کر مارنا جائز نہیں ہے کھٹمل کو  مارنے کے دیگر  جو طریقے ہیں ان کو اختیار کرنا چاہیے،  البتہ اگر موذیات سے کسی اور طریقے سے چھٹکارے کی توقع  نہ ہو  تو جلانے کی گنجائش ہوگی ،باقی اگر پانی میں زندہ ڈالنے سے نہ پھیلنے کا تجربہ ہو تو پانی میں زندہ ڈالنا بھی جائز  ہے۔

العرف الشذي للكشميري (3/ 180):
و"الإحراق عن الصحابة أيضاً ، وفي الدر المختار ص ( 334 ) : جواز إحراق اللوطي، وروي عن أحمد بن حنبل جواز إحراق الحيوانات المؤذية من القمل والزنابير وغيرها وبه أخذ عنه عدم البدّ منه".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200103

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں