بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 جُمادى الأولى 1441ھ- 25 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

کھلے پیسے زائد رقم دے کر خریدنا


سوال

میں ایک  دوکان دار ہوں،  گاہک  جب سامان لیتا ہے تو  اکثر سو دو سو کا سامان لےکر ہزار پانچ سو کا نوٹ دیتا ہے،  جس کی وجہ سے ہمیں کھلا  وافر مقدار میں رکھنا پڑتا ہے، اکثر کھلا بینکوں میں دست یاب نہیں ہوتا،  جس کی وجہ سے کھلا ہمیں خریدنا پڑتا ہے،  مثلاً سو  والی  دس ہزار  کی گڈی دس ہزار ایک سو ، اور پچاس والی پانچ ہزار کی گڈی پانچ ہزار پچاس میں ملتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مجبوری کے تحت بازار سے کھلے پیسے قیمتاً خریدنا؛  تاکہ کسٹمر واپس نہ جاے صحیح ہے یا غلط؟

جواب

روپے کے  بدلے  میں  روپے  کی  خرید و فروخت  پر کمی بیشی کرنا شرعاً  سود  ہونے  کی  وجہ  سے  ناجائز ہے۔ اور مذکورہ ضرورت کے پیشِ نظر بھی اس طرح لین دین کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ البتہ اس معاملہ میں  جواز  کی صورت یہ ہوسکتی ہے  کہ  مثلاً سو روپے کی گڈی بیچنے والا 99  یا 98 نوٹ اور اس کے ساتھ کوئی  چیز  ساتھ بیچے اور خریدار پورے دس ہزار میں خریدے،  تو  ایسی صورت  میں وہ زائد رقم اس دوسری چیز کے بدلہ میں ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201639

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے