بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1441ھ- 23 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

کوئلہ پر تیمم کا حکم


سوال

کوئلے  پر تیمم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  کوئلہ دو قسم کا ہوتا ہے: (1) جبلی (پہاڑی) جو کان سے نکالا جاتا ہے، اس کا شمار زمین کی جنس میں سے ہوتا ہے۔ (2) لکڑی کو جلاکر بنا ہوا کوئلہ، یہ زمین کی جنس میں سے نہیں ہے۔

لہذا  کوئلہ کی دوسری قسم کہ جو لکڑی کو جلاکر کوئلہ بنایا گیا ہو ، اس پر تیمم کرنا جائز نہیں ہے، جب کہ پہاڑی کوئلہ چوں کہ زمین کی جنس میں سے ہے اور پتھر کی طرح ہے اس پر تیمم کرنا جائز ہے۔

فتاوی خلیلہ میں ہے :

”بندہ کے نزدیک جبلی کوئلہ پر اور اس کی راکھ پر تیمم کرنا جائز ہے؛ کیوں کہ ان کا حکم حجر کا ہوگا“۔ (فتاوٰی خلیلہ (1/75)،کتاب الطہارۃ،باب التیمم)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 240):
"ولا (بمنطبع) كفضة وزجاج (ومترمد) بالاحتراق إلا رماد الحجر فيجوز كحجر مدقوق أو مغسول، وحائط مطين أو مجصص.

(قوله: ومترمد) أي ما يحترق بالنار فتصير رماداً بحر (قوله: إلا رماد الحجر) كجص وكلس (قوله: كحجر) تنظير لا تمثيل".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200732

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے