بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

کنچے کھیلنا


سوال

بچے کانچ کی گولیاں کا کھیل کھیلتے ہیں،  اس میں دو طریقہ کار ہیں:  ایک تو یہ کہ ایک بچہ اپنے ہاتھ کے اندر کچھ گولیاں لے کر دوسرے سے پوچھتا ہے کہ جفت ہے یا طاق؟  اگر دوسرا صحیح بتا دے  تو پوچھنے والا ساری کی ساری گولیاں دوسرے کو دے دیتا ہے،  اور اگر غلط بتائے،  تو دوسرے کو اتنی تعداد گولی دینی پڑیں گی،  اس کو مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے ناجائز کہا ہے،  جواہرالفقہ صفحہ نمبر 350،  لیکن معلوم یہ کرنا ہے کہ ایک اور صورت ہے  کہ کانچ کی گولی کے ذریعے بچے  نشانہ بناتے ہیں، اگر نشانہ صحیح  لگ جائے تو  وہ دوسرے سے گولیاں وصول کرتا ہے،  کیا یہ طریقہ کار درست ہے یا یہ بھی قمار اور جوا میں داخل ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کنچوں سے اس شرط پر نشانہ بازی کا کھیل کھیلنا کہ اگر درست نشانہ لگے تو مدِّ مقابل نشانہ باز کو متعین تعداد میں کنچے دینے کا پابند ہوگا،  ’’جوے‘‘  میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔

اَحکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وأما المیسر فقد روي عن علي أنه قال: الشطرنج من المیسر، وقال عثمان وجماعة من الصحابة والتابعين: النرد، وقال قوم من أهل العلم: القمار كله من المیسر، وأصله من تيسير أمر الجزور بالاجتماع على القمار فيه وهو السهام التي يجيلونها فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم فربما أخفق بعضهم حتى لايخطئ بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر و حقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار كالهبات والصدقات وعقود البياعات ونحوها إذا علقت على الأخطار بأن يقول قد بعتك إذا قدم زيد و وهبته لك إذا خرج عمر ولأن معنى إيسار الجزور أن يقول من خرج سهمه استحق من الجزور كذا فكان استحقاقه لذلك السهم منه معلقاً على الحظر والقرعة في الحقوق تنقسم إلى معنيين أحدهما تطييب النفوس من غير إحقاق واحد من المقترعين ولا بخس حظه مما اقترعوا عليه مثل القرعة في القسمة وفي قسم النساء وفي تقديم الخصوم إلى القاضي والثاني مما ادعاه مخالفونا في القرعة بين عبيد أعتقهم المريض ولا مال له غيرهم فقول مخالفينا هنا من جنس المیسر المحظورة بنص الكتاب لما فيه من نقل الحرية عمن وقعت عليه إلى غيره بالقرعة ولما فيه أيضا من إحقاق بعضهم وبخس حقه حتى لا يخطئ منه بشيء واستيفاء بعضهم حقه وحق غيره ولا فرق بينه وبين المیسر في المعنى". (أحكام القرآن للجصاص، ٤ / ۱۲۷، ط: دار إحياء التراث العربي)

الموسوعة الفقهية الكويتيةمیں ہے:

"اتفق الفقهاء على تحريم ميسر القمار". (الموسوعة الفقهية الكويتية ، ۳۹/ ٤٠٧، ط: دار السلاسل) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200650

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے