بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اگر میں نے نکاح کیا تو کلما کی طلاق کہنے کا حکم


سوال

میں اپنے ہوش حواس میں یہ قسم کھا  چکا ہوں کہ  میں نکاح نہیں کروں گا اور اگر کیا تو کلما کی طلاق،  اب معاملات سنگین ہوگئے ہیں گھر کی طرف سے اور والدِ محترم نے بات بھی پکی کرلی ہے،  اب موجودہ حالات میں میں سنگین پریشان ہو ں، برائے مہربانی اس مسئلہ کا جلد از جلد جواب ارسال کردیں!

جواب

آپ نے طلاق کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، ان کا شرعاً  کوئی اعتبار نہیں، شرعی اعتبار سے آپ کسی بھی عورت سے نکاح کرسکتے ہیں اور نکاح کرنے سے ان الفاظ کی بنا پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے