بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کفریہ بات سوچنا یا ذہن میں آنے کا حکم


سوال

مجھے اکثر ایسا لگتا ہے کہ میں کافر ہوگیا ہوں،  یا میرے ذہن میں کوئی کفریہ بات آگئی ہے، میں نے ایک عالم سے پوچھا وہ کہتے ہیں کہ جب تک کفر کا یقین نہ ہو جائے تب تک تجدیدِ  ایمان نہ کرو، مجھے ڈر لگتا ہے اس لیےمیں باربار توبہ کرکے پہلے دو کلمے پڑھتا ہوں، کیا یہ تجدیدِ  ایمان کا صحیح طریقہ ہے؟ مجھے پتا  نہیں ہوتا کہ کفر ہوا یا نہیں، یہ بھی پتا  نہیں ہوتا کہ وہ بات میں نے جان بوجھ کر سوچی یا وہ بات خود ہی میرے ذہن میں آگئی ہے!

جواب

اگر کسی شخص کے  ذہن میں کفریہ بات  آجائے یا اسے یہ لگے  کہ میں کافر ہو گیا ہوں  (اور زبان سے کلمہ کفر نہ کہاہو ) تو اس سے وہ کافر نہیں ہوا، لہذا ان وسوسوں پر دھیان نہ دے، بلکہ اطمینان سے دینِ اسلام کی پابندی کرے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (4 / 224):

"(وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلاتصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس".

و في الرد:

"(قوله: وموسوس) بالكسر، ولايقال بالفتح، ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس؛ لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لايجوز طلاق الموسوس، قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم: هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام، كذا في المغرب". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201135

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے