بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

کشمیر کے حالات کے تناظر میں پاکستانیوں پر جہاد کا حکم


سوال

کشمیر میں جہاد کیا فرض ہے؟

جواب

جہاد  کے تعین اور اعلان سے متعلق شرعی احکام اور موجودہ دور کی حکومتوں کے انتظامی و عسکری معاملات کے تناظر میں کشمیر میں جہاد کے اعلان کا اختیار اور ذمہ داری حکومتِ وقت اور ملک کی ریزرو عسکریت نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے، جس کی وجہ سے مسلمانانِ پاکستان حاکمِ وقت اور امیرِ عساکر  کے اعلان کے پابند بنائے گئے ہیں، یہ اعلان اور اقدام اب ان کی ذمہ داری ہے،  عام مسلمان ان کے اَحکام کا انتظار کریں۔  نیز حکومت اور متعلقہ اداروں سے قربت رکھنے والے اہلِ علم کا فرض منصبی ہے کہ وہ حکام اور متعلقہ اداروں کو ان کی شرعی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری سے متعلق تذکیر اور راہ نمائی فرمائیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200641

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے