بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جمادى الاخرى 1441ھ- 19 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی کے سودے پر سودا کرنا


سوال

مالکِ مکان اور فریقِ اول کے درمیان پلاٹ کا سودا چل رہا تھا، ایجاب و قبول ہوگیا، بیعانہ بھی طے ہوگیا، لیکن ابھی دیا نہیں تھا، آدھے گھنٹے کے بعد مالک مکان یہ کہتا ہے کہ میں آپ کا بیعانہ قبول نہیں کرسکتا؛ کیوں کہ میرے گھر پہنچنے پر میری والدہ نے بتایا کہ یہاں دوسرا فریق آیا ہے، جو پہلے فریق سے زیادہ رقم دے رہا ہے، اور پلاٹ خریدنے کو تیار ہے،  بعد ازاں تمام معاملات ہونے کے بعد فریقِ اول بھی فریقِ دوم کے برابر قیمت دینے پر تیار ہے، ایسی صورت میں مالک مکان کو یہ پلاٹ کس فریق کو دینا چاہیے؟ اور جو معاملہ گزشتہ ہوا ہے اس کی وجہ سے گناہ گار تو نہیں ہوگا؟

جواب

مذکورہ صورت میں جس شخص نے مالک سے پہلے ایجاب وقبول کرکے سودا طے کیا ہے یہ شخص مذکورہ پلاٹ کا زیادہ استحقاق رکھتاہے،  نیز جب ایک شخص ایجاب وقبول کرچکا ہو تو درمیان میں کسی اور شخص کا (پہلے سودے کا علم ہوتے ہوئے) شامل ہوکر زیادہ قیمت لگانا اورپہلے شخص کے سودے کو ختم کرنے کی کوشش کرنایا فروخت کرنے والے کا ایجاب و قبول کے باوجود زیادہ قیمت ملنے کی بنا پر  پہلے خریدار کو بتائے بغیر اور اس سے بیع ختم کیے بغیر کسی دوسرے شخص کے ساتھ ایجاب و قبول کرلیناشرعی طور پر ناپسندیدہ امر ہے، جیساکہ حدیث شریف میں ہے:

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے  ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے‘‘۔

یعنی کسی سے خرید وفروخت کا معاملہ ہو رہا ہو تو اس میں مداخلت نہ کرے اور چیز کے زیادہ دام نہ لگائے،  یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ بیچنے والا اور خریدار دونوں کسی ایک قیمت پر راضی ہو گئے ہوں؛ لہذا اب کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو لینے کا ارادہ کرے اور زیادہ دام لگا کر ان کا معاملہ خراب کرے ایسا کرنا مکروہ ہے،  اگرچہ بیع صحیح ہو جائے گی۔(مشکاۃ  مع مظاہر حق)

بہرحال مذکورہ صورت میں اب تک پلاٹ نہ دیا ہو تو پہلے فریق کو دینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200960

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے